.

اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 14 سالہ فلسطینی لڑکا شہید

غرب اردن کے گاؤں حجہ میں صہیونی فوج کی کارروائی، مقتول فلسطینی کا مکان مسمار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجیوں نے مظاہرین پر فائرنگ کردی ہے جس سے ایک چودہ سالہ فلسطینی لڑکا شہید اور چار افراد زخمی ہوگئے ہیں۔۔

مغربی کنارے کے علاقے بیت التحتہ کی مقامی کونسل کے سربراہ وجیہ احمد نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے ایک کار پر فائرنگ کی ہے اور اس میں سوار فلسطینی لڑکا محمود بدران شہید ہوگیا ہے۔

مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں ایک اسپتال میں واقعے میں زخمی ہونے والے چار افراد کو منتقل کیا گیا ہے۔ان میں ایک فلسطینی شدید زخمی ہے اور تین کو معمولی زخم آئے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فوج ایک مصروف شاہراہ پر گاڑیوں پر پتھراؤ کرنے والے فلسطینیوں کی جانب فائرنگ کی تھی اور ابتدائی تحقیقات کے مطابق بعض راہ گیر بھی اس کی زد میں آگئے ہیں۔

فلسطینی کے مکان کی مسماری

درایں اثناء اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے ایک گاؤں حجہ میں ایک مقتول فلسطینی کے مکان کو مسمار کردیا ہے۔اس فلسطینی نے مبینہ طور پر مارچ میں ایک امریکی سیاح کو چاقو گھونپ کر قتل کردیا تھا۔

اس فلسطینی بشار مصلحہ نے تل ابیب میں ساحل سمندر پر سابق امریکی فوجی ٹیلر فورس کو قتل کیا تھا اور دس اور افراد کو چاقووں کے وار سے زخمی کردیا تھا۔اسرائیلی پولیس نے بشار مصلحہ کو واقعے کے فوری بعد گولی مار کر قتل کردیا تھا۔

مقتول ٹیلرفورس وینڈر بیلٹ یونیورسٹی کا گریجوایٹ تھا اور وہ اسرائیل سیر کے لیے آیا تھا۔وہ اس سے پہلے عراق اور افغانستان میں فوجی خدمات انجام دے چکا تھا۔