.

فلوجہ کا صرف 33 فی صد علاقہ کلیئر ہوا:امریکی اتحاد

عراقی حکومت کے دعوے کے برعکس داعش کی دوتہائی حصے میں مزاحمت جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی قیادت میں اتحاد نے کہا ہے کہ فلوجہ کے صرف ایک تہائی حصے کو داعش کے جنگجوؤں سے پاک کرایا جاسکا ہے۔عراقی حکومت نے اسی ہفتے فلوجہ میں اپنی فتح کا اعلان کیا تھا لیکن شہر کے دو تہائی حصوں میں داعش اور عراقی فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے۔

بغداد میں اتحادی فوج کے ترجمان امریکی کرنل کرسٹوفر گارور نے منگل کے روز اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراقی سکیورٹی فورسز نے فلوجہ کے جنوبی حصے کو کلیئر کر لیا ہے اور اب شہر کے وسط سے دوسرے علاقوں میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔

عراقی فورسز نے جمعہ کو فلوجہ کے وسط میں دھاوا بولا تھا اور ایک سرکاری کمپلیکس اور سنٹرل اسپتال پر قبضہ کر لیا تھا۔اسی شام عراقی اسپیشل فورسز کے بریگیڈئیر جنرل حیدرالعبیدی نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے شہر کے 80 فی صد حصے پر کنٹرول کا دعویٰ کیا تھا۔

عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی نے بھی جمعے کو کہا تھا کہ فلوجہ کو قوم کو لوٹا دیا گیا ہے اور داعش کے باقی ٹھکانوں کو آیندہ چند گھنٹوں میں پاک کر لیا جائے گا مگر اس کے بعد سے داعش کے جنگجوؤں اور عراقی فورسز نے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔داعش کے جنگجو شہر کے شمال میں واقع گنجان آباد شہری علاقوں میں مورچہ بند ہوچکے ہیں اور وہ عراقی فوج کی شدید مزاحمت کررہے ہیں۔

عراقی فوج کے کمانڈروں کا کہنا ہے کہ ان کی فورسز نے پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے اور اب تک لڑائی میں انھوں نے داعش کے سیکڑوں جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے۔

بریگیڈئیر عبیدی کا کہنا ہے کہ امریکا کی قیادت میں اتحاد کے فضائی حملوں کی مدد سے عراقی فورسز نے فلوجہ کے علاقوں الشرطہ ،الجغیفی اور العبیدی پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔عراقی فوج کے انجنئیر شاہراہوں اور عمارتوں میں پڑے بموں یا نصب بارودی سرنگوں کو صاف کررہے ہیں۔

فلوجہ آپریشن کے انچارج اور خصوصی دستوں کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عبدالوہاب السعدی نے مقامی السمیریا ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے داعش کے ڈھائی ہزار جنگجو ہلاک کردیے ہیں لیکن انھوں نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا ہے۔اس کارروائی میں عراقی فوج نے اپنے جانی نقصان کی کوئی تفصیل جاری نہیں کی ہے جبکہ داعش نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے بیسیوں فوجیوں کو ہلاک کردیا ہے۔

بغداد میں بم دھماکے

درایں اثناء دارالحکومت بغداد اور اس کے نواحی علاقوں میں منگل کے روز پے درپے بم دھماکوں میں بارہ افراد ہلاک اور بیالیس زخمی ہوگئے ہیں۔

فوری طور پر کسی گروپ نے ان بم دھماکوں کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے لیکن بم حملے داعش کے انداز میں کیے گئے ہیں۔عراقی حکام کے مطابق ان بم دھماکوں کا مقصد سکیورٹی فورسز کی توجہ فرنٹ محاذ سے دوسری جانب بٹانا ہے۔