.

عراق: بابل شہر کا نام ’امام حسن‘ قرار دینے کی سخت مخالفت

تاریخی شہر کا نام تبدیل کرنے کی حمایت اور مخالفت میں مہمات جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں اہل تشیع کی نمائندہ شخصیات کی جانب سے حال ہی میں ایک مہم شروع کی گئی ہے جس میں تاریخی شہر ’بابل‘ کا نام تبدیل کرکے اسے ’امام الحسن‘ کے نام سے موسوم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب اس مہم کے متوازی ایک دوسری مہم جاری ہے جس میں شہر کا تاریخی نام تبدیل کرنے کی سخت مخالفت کی جا رہی ہے۔

شہر کا نام تبدیل کرنے کی مخالفت کرنے والوں کا موقف ہے کہ بابل شہر ’بابلی تہذیب وثقافت‘ کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگر یہ نام ختم ہوگیا تو عراق میں بابلی تاریخ کا نام ونشان مٹ جائے گا۔

عراقی ذرائع ابلاغ کے مطابق کل سوموار سے بغداد میں بابل کا نام تبدیل کرنے کی مخالفت میں تین روزہ پروگرامات کا آغاز ہوا ہے۔ بابل شہر کا نام تبدیل کرنے کی مخالفت کرنے والوں کی طرف سے یہ مہم ایک ایسے وقت میں شروع کی گئی ہے جب اہل تشیع کے کلینڈر کے مطابق امام حسن رضی اللہ عنہ کا یوم ولادت منایا جا رہاہے۔

سامریہ ٹی وی نے امام حسن بن علی اور عباس بن علی رضی اللہ عنہ کے مزارات کی انتظامی کمیٹی کے رکن علی کاظم سلطان نے بتایا کہ تین روزہ تقریبات کا انعقاد بابل شہر میں ’رد شمس‘ کے مقام پر کیا جا رہا ہے۔ یہ تقریبات ایک ایسے وقت میں منائی جا رہی ہیں جب امام حسن رضی اللہ عنہ کا یوم ولادت بھی انہی ایام میں آ رہا ہے۔

کاظم سلطان کا کہنا ہے کہ بابل شہرکا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ نیا نہیں بلکہ سابق شیعہ مذہبی لیڈر السید محسن الحکیم نے اس شہر کا نام ’امام الحسن‘ تجویز کیا تھا۔ انہوں نے عراق کے کئی دوسرے شہروں کے نام اہل تشیع کے آئمہ اور حضرت علی کی اولاد سے منسوب کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

تاریخی نام کے دفاع میں جاری مہم

دوسری جانب بابل شہر کے تاریخی نام کو برقرار رکھنے کی حمایت میں بھی مہم جاری ہے۔ نام تبدیل کرنے کے مخالفین کے پاس بھی ٹھوس دلائل ہیں۔ یہ مہم گلی محلوں سے نکل کر اب سوشل میڈیا پر آپہنچی ہے جہاں بڑے پیمانے پر نام کی تبدیلی کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بابل شہر کا نام تبدیل کرنے کے مخالفین کا کہنا ہے کہ بابل کی تاریخ سات ہزار سال پرانی ہے۔ نام کی تبدیلی سے اس تاریخی شہر کی ثقافتی اور تہذیبی شناخت ختم ہو کر رہ جائے گی۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ بابل کا نام تبدیل کرکے اسے ’امام الحسن‘ کے نام سے موسوم کرنے کی مہم مٹھی بھر شدت پسند شیعہ عناصر کی ہے وہ ماتم حسینیہ کی آڑ میں عراق کے تاریخی شہروں کے نام تبدیل کرنے کی سازشیں کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امام حسن کبھی بھی اس شہرمیں نہیں آئے۔ اس کے باوجود اہل تشیع اس شہر کو ان کے نام سے موسوم کرنا چاہتے ہیں۔

بابل کی تاریخی اہمیت

بابلی تہذیب جس کا دوسرا نام ’’باب ایل‘‘ بھی ہے دریائے نیل اور فرات کے کناروں پر پھیلی ایک وسیع عریض سلطنت کی تہذیب وثقافت کا دوسرا نام ہے جو صرف عرب ملکوں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے اہمیت کی حامل ہے۔ پہلی بابلی حکومت امورین سے قبل 1830 تا 1890 قبل مسیح رکھی گئی۔ تواریخ میں پہلی بابلی فرمانروا کا نام ’’سومو۔ آبوم‘‘ بتایا جاتا ہے۔ نبوبولاصر الکلدی متوفیٰ 627 قبل مسیح میں بابلی سلطنت اور تہذیب اپنے نقطہ عروج پرتھی اور یہ 539 قبل مسیح تک جاری رہی اور اس کا اختتام بخت نصر کے ہاتھوں ہوا اور اس نے بابل شہر کواپنی سلطنت میں شامل کرلیا تھا۔ اس کے بعد یہ شہر 12 صدیوں تک فارسی شہنشاہیت کے زیرتسلط رہا۔ خلافت عباسیہ کے دور میں یہ اسلامی خلافت کا حصہ بنا۔ اس وقت اسلامی خلافت کی سرحدیں ایک طرف چین اور دوسری جانب اندلس تک پھیلی ہوئی تھیں۔