.

مصر نے طیارے کے مسافروں کے لیے زرتلافی کیوں پیش کیا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی قومی فضائی کمپنی کے سربراہ صفوت مسلم کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ 19 مئی کو بحیرہ روم میں گر کر تباہ ہونے والے مصری طیارے کے ہر مسافر کے اہل خانہ کو عارضی زر تلافی کے طور پر 25 ہزار ڈالر ادا کیے جائیں گے۔

یہاں ذہنوں میں ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ مصر نے تحقیقات کے اختتام سے قبل یہ اقدام کیوں کیا ؟

ہوابازی کی وزارت میں ذمہ دار ذرائع نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ یہ اقدام فطری ہے اور قومی فضائی کمپنی کا انشورنس کمپنیوں کے ساتھ ہر مسافر کے خاندان کو 25 ہزار ڈالر بطور عارضی زر تلافی ادا کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق طیارے کے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ جمعرات کے روز ہوائی اڈے کے قریب ایک بڑے ہوٹل میں جمع ہوں گے جہاں ان کے متعلقین کے موت کے سرٹفکیٹ تقسیم کیے جائیں گے۔ اس کے بعد انشورنس کمپنیوں کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کو 25 ہزار ڈالر کے چیک دیے جائیں گے۔

قانون کے پروفیسر ڈاکٹر احمد مہران نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے باور کرایا کہ مصری فضائی کمپنی کی جانب سے کیا جانے والا اقدام فضائی نقل و حمل کے معاہدے کے تحت قانون کے مطابق اور فطری ہے۔ وارسو کنوینشن کے مطابق فضائی نقل و حمل کی کمپنی متاثرین کے لیے زر تلافی کی مالیت کا تعین کرتی ہے اور اس کیس میں مصری فضائی کمپنی نے اسی طرح کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ زر تلافی غلطی، نقصان اور معیار سے مربوط ہے۔ مصر اور فرانس میں شہری قانون کے مطابق فضائی نقل و حمل کی ذمہ داری میں غلطی مشترکہ غلطی ہے۔ اسی لیے مصری فضائی کمپنی تحقیقات کے خاتمے ، حادثے کے ذمے داروں کے تعین اور ان کے خلاف عدالتی کارروائی سے قبل ہی شہری زر تلافی کی قیمت ادا کررہی ہے۔

ڈاکٹر مہران نے باور کرایا کہ مصری فضائی کمپنی غلطی کی ذمہ دار ہے لہذا وہ زر تلافی کی بھی پابند ہے جس میں سے کچھ حصہ اس نے 25 ہزار ڈالر کی شکل میں پیش کیا ہے۔ اٹارنی جنرل کا دفتر جرم کے ذمہ داری کا تعین کرے گی اور ملوث افراد کو مصری شہری ہونے کی صورت میں مصر میں اور غیرملکی ہونے کی صورت میں ان کے اپنے ملک میں فوج داری عدالتوں میں پیش کیا جائے گا۔ تاہم اگر ذمہ دار کوئی بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم ہوئی تو پھر اس کے خلاف قانونی کارروائی بین الاقوامی عدالت جرائم میں پوری کی جائے گی۔

تحقیقات کے اختتام سے قبل مصری فضائی کمپنی کی جانب سے مسافروں کے موت کے سرٹفکیٹ جاری کرنے کے حوالے سے ڈاکٹر مہران کا کہنا تھا کہ یہ بھی ایک قانونی اور اچھا اقدام ہے کیوں کہ موت کے سرٹفکیٹ کے اجراء سے قبل ہر مسافر کے اہل خانہ کو مقررہ زرتلافی کی ادائیگی نہیں ہوسکتی۔ زرتلافی پیش کرنے کے لیے یہ ایک بنیادی اور ضروری شرط ہے۔