.

غزہ: ایرانی رسوخ بڑھانے کے لیے آلہ کار"اسلامی جہاد تحریک"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قاسم سلیمانی غزہ میں اپنا تصرف جمار رہا ہے اور ایسا نظر آتا ہے کہ الصابرین تحریک اور حماس کے بعد اس مرتبہ کاٹھ کا گھوڑا فلسطین میں اسلامی جہاد تنظیم ہے۔

غزہ میں ایران کے حامی عناصر عراق کے ایک شیعہ شیخ کی جانب سے کئی سالوں سے دُہرائی جانے والی بات کو لے کر شیخی بگھارتے ہیں۔ جلال الدین الصغیر نامی اس عراقی شیخ کا یہ ہی کہنا ہے کہ غزہ میں ہر چیز شیعہ نسبت رکھتی ہے اس لیے کہ یہ ایرانی عطیات کی مہربانی سے ہے۔ وہ کہتا ہے کہ " یہاں تک کہ راکٹ بھی شیعہ ہے"۔

غزہ میں شیعوں کا اولین ظہور غزہ پٹی پر حماس کے کنٹرول کے چند سال بعد ایرانی نواز اداروں کے ذریعے سامنے آیا تھا جب وہ 2011 میں غزہ پٹی کے شمالی علاقے بیت لاہیا میں نمودار ہوئے۔

غزہ میں ایران کے ساتھ خصوصی تعلق کے حوالے سے بل بورڈز پھیل گئے ہیں۔ غزہ اور تہران کے درمیان تعلق کے لیے یہ تشہیری مہم ، پاسداران انقلاب کا ذیلی بریگیڈ فیلق القدس اپنے مقامی کارندوں کو رقم دے کر چلا رہا ہے۔

فیلق القدس کئی برسوں سے غزہ میں اپنا رسوخ بڑھانے کی کوششیں کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں ایران کے روایتی حلیف حماس کے قائدین پر انحصار اور الصابرین تحریک جیسی نئی عسکری تنظیمیں تشکیل دینے کے ساتھ ساتھ اسلامی جہاد تحریک جیسے روایتی حلیفوں کو بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ اس کا مقصد اسلامی جہاد کو اُن تحریکوں میں بدل دینا ہے جن کی قیادت شیعوں کے ہاتھ میں ہو اور پھر وہ ایران کے وفادار بن جائیں۔ اس منصوبے پر عمل درامد کے لیے فرقہ وارانہ جوڑ اور مالی ربط کو کام میں لایا جا رہا ہے۔ اس طرح فیلق القدس کے ذریعے ایران کی چاہت کے مطابق اسلامی جہاد کی عسکری تحریک کے رسوخ پر کنٹرول حاصل کیا جا رہا ہے۔

کچھ عرصہ قبل ایران کے ساتھ گرمجوشی کے تعلقات بحال ہونے کے بعد حماس غزہ میں شیعہ بن جانے والوں اور "الصابرین" تحریک کے تعاقب سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔ ایران نے حماس اور اسلامی جہاد کو دھمکی دی تھی کہ اگر ایرانی امداد کو جاری رکھنا ہے تو غزہ کو مذہبی طور پر ایران نواز تحریکوں کی سرگرمیوں اور سیاسی اور عسکری طور پر فیلق القدس کی سرگرمیوں کے لیے کھولنا ہو گا۔

فلسطینیوں کی جانب سے اسلامی جہاد تنظیم پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ حال ہی میں غزہ میں شیعہ جانب کو تحفظ فراہم کرنے پر آمادہ ہو گئی ہے تاکہ ایرانی امداد کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے نتیجے میں مئی کے اواخر میں ایران سے 7 کروڑ ڈالر مل جانے کی راہ ہموار ہوئی۔

ادھر غزہ پٹی میں حماس کی قیادت بھی ایران کے ساتھ تعلق کو ترجیح دینے کا دفاع کرنے لگی ہے جب کہ اسلامی جہاد کو ایسے فریق میں تبدیل کیا جا رہا ہے جو الصابرین تحریک کا خیال رکھے اور حماس کے ساتھ متحد ہو جائے۔