.

امریکا کے حمایت یافتہ شامی جنگجو منبج میں داخل

عرب اور کرد اتحاد نے داعش کے مضبوط گڑھ کا گھیرا مزید تنگ کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی حمایت یافتہ شامی ڈیمو کریٹک فورسز( ایس ڈی ایف) کے جنگجو داعش کے مضبوط گڑھ منبج میں داخل ہوگئے ہیں اور انھوں نے شہر کے ایک اہم چوراہے اور آٹے کی چکیوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے ہفتے کے روز بتایا ہے کہ عرب اور کرد جنگجوؤں نے دریائے فرات سے ہو کر مشرق کی جانب سے منبج کا گھیرا مزید تنگ کردیا ہے اور انھوں نے شہر کے جنوب میں واقع آٹے کی ملوں پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔اس کے بعد وہ شہر کے وسط کے نزدیک پہنچ گئے ہیں۔

رصدگاہ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ عرب اور کرد جنگجوؤں نے شہر کے بیرون میں واقع گندم کے مخروطی گوداموں پر بھی قبضہ کر لیا ہے اور ان سے نصف منبج واضح نظر آتا ہے۔

ایس ڈی ایف نے مئی کے آخرمیں منبج پر قبضے کے لیے چڑھائی کی تھی اور اس لڑائی میں امریکا اور دوسرے اتحادی ممالک کے قریباً دو سو فوجی مشیر حربی حکمت عملی میں ان کی معاونت کررہے ہیں۔

دوسری جانب داعش نے بھی بڑی تعداد میں اپنے غیرملکی جنگجوؤں کو اس جنگ میں جھونک رکھا ہے اور 31 مئی کے بعد اب تک اس کے 463 جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ ایس ڈی ایف کے 89 جنگجو مارے گئے ہیں۔

حلب پر فضائی بمباری

درایں اثناء روس اور شام کے لڑاکا طیاروں نے شمالی شہر حلب میں باغیوں کے زیر قبضہ مشرقی علاقوں پر کئی گھنٹے تک شدید بمباری کی ہے۔فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے ایک نمائندے نے بتایا ہے کہ جمعہ کی رات سے ہفتے کی صبح تک مشرقی حصوں پر فضائی حملے جاری رہے ہیں۔

شامی رصدگاہ کے مطابق روسی طیاروں نے باغیوں کے کنٹرول میں حلب کی اہم شاہراہ کاستیلو روڈ پر بمباری کی ہے۔باغیوں کو اسی شاہراہ کے ذریعے سامان رصد پہنچ رہا ہے۔شامی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے شہر کے مشرقی علاقوں پر بمباری کی ہے۔

حلب میں امدادی سرگرمیاں انجام دینے والے شہری دفاع گروپ کا کہنا ہے کہ المیسار کے علاقے میں فضائی حملوں میں ایک بچے سمیت دو افراد مارے گئے ہیں۔مشرقی حلب میں مقیم ایک دکاندار ابو احمد نے بتایا ہے کہ وہ اور اس کے تین بچے گذشتہ دو روز سے سو نہیں سکے ہیں کیونکہ ساری رات بھاری دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہتی ہیں۔