.

جدہ میں نابینا افراد کے لیے پہلا مخصوص ٹریک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ میں نابینا افراد کو پیش کی جانے والی خدمات میں ایک نیا قدم اٹھایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں نابینا اور نظر کی کمزوری کا شکار افراد کے چلنے کے لیے پہلا خصوصی ٹریک تیار کیا گیا ہے جس کی لمبائی ایک ہزار میٹر ہے۔

ٹریک کے حوالے سے ایک نابینا شخص نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ " ٹریک کی تیاری کے تمام مراحل میں ہم اس کی نگرانی میں شامل رہے اور بنیادی چیز یہ ہے کہ ٹریک کو عالمی معیار کے مطابق ہونا چاہیے"۔

جہاں ایک طرف جدہ کے باسیوں نے اس خیال کا خیرمقدم کیا ہے وہاں افتتاحی روز شریک ہونے والے بعض نابینا افراد اس سے نالاں بھی نظر آتے ہیں۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یومیہ تجربات اور ٹریک سے استفادہ کرنے والوں کے مشوروں اور تجاویز کو نوٹ کر کے اس کی خامیوں کو دور کیا جاسکتا ہے۔

ٹریک استعمال کرنے والی ایک نابینا خاتون کے مطابق " پہلی چیز یہ کہ ٹریک پر لگے بریکرز کو زیادہ نرم ہونا چاہیے، ان بریکرز پر چھڑی لگتی ہے تو چلنے میں تنگی محسوس ہوتی ہے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ مجھے ٹریک پر نہیں بلکہ ٹریک کے برابر میں چلنا چاہیے کیوں کہ ٹریک اونچا ہے اور اس پر چلنے سے پاؤں اور ایڑی میں تکلیف ہوتی ہے۔ ٹریک کے برابر میں چلنے میں مسئلہ یہ ہے کہ وہاں فٹ پاتھ ہے اور بعض مرتبہ میں دائیں بائیں جا کر پول سے بھی ٹکرا گئی"۔

سعودی عرب میں نابینا اور نظر کی کمزوری کا شکار افراد کی درست تعداد کے حوالے سے اعداد وشمار نہیں ملتے ہیں جب کہ چہل قدمی اور دوڑ سے متعلق کھیلوں کے شعبے میں بھی ماضی میں نابینا افراد کا ریکارڈ داخل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔

ٹریک استعمال کرنے والی ایک دوسری نابینا خاتون نے اپنے خیالات کا اظہار کچھ اس طرح کیا " ٹریک پر چلتے ہوئے میری چھڑی دو بریکروں کے درمیان اٹکتی ہے۔ لہذا میری تجویز ہے کہ اس دشواری کو دور کیا جائے اور چلتے ہوئے انسان کو اس میں آسانی محسوس ہونی چاہیے"۔

نابینا افراد کے ٹریک کے منصوبے کے سلسلے میں سب سے زیادہ قابل توجہ بات یہ ہے کہ منصوبے پر عمل درامد کے ذمہ داران میں شامل ایک شخصیت خود بھی نظر کی معذوری کا شکار ہیں۔

مبصرین کے مطابق سعودی عرب کے شہروں میں اس تجربے کا پھیلنا اور اس میں پیش رفت یقینا تمدن کا ایک اعلیٰ اشاریہ ہو گا۔