.

حسن نصر اللہ اور حزب اللہ کے ایران کے کارندے ہونے کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دہشت گرد قرار دی گئی لبنانی تنظیم حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ نے سرکاری طور پر بتایا ہے کہ " تنظیم کے تمام تر مالیاتی امور بینکوں کے ذریعے نہیں بلکہ ایران کے ذریعے پایہ تکمیل تک پہنچتے ہیں۔ جس طرح ہم تک وہ میزائل پہنچے جن سے ہم اسرائیل کو دھمکاتے ہیں ، اسی طرح ہم تک مالی رقوم بھی پہنچتی ہیں"۔

حسن نصر اللہ نے جمعے کے روز یہ بات تنظیم کے عسکری کمانڈر مصطفی بدرالدین کی موت کے چالیس روز گزرجانے کے موقع پر منعقد تقریب میں کہی۔ بدر الدین کو شام کے دارالحکومت دمشق میں ہلاک کردیا گیا تھا۔

حزب اللہ کے خلاف ملکی بینکوں کے حالیہ اقدامات کے حوالے سے نصر اللہ نے کہا کہ "لبنان میں بعض بینک تو بہت دور نکل گئے ہیں"۔

حسن نصراللہ نے حلب میں مداخلت کی تصدیق کرتے ہوئے شامیوں کے لیے اپنی دھمکی کو دُہرایا اور کہا کہ حلب میں لڑائی درحقیقت "شام ، لبنان ، عراق اور اردن کا دفاع ہے"۔

انہوں نے باور کرایا کہ تنظیم کے ارکان کی ایک بڑی تعداد اس علاقے (حلب) میں موجود ہے۔

حسن نصر اللہ نے روس کی جانب سے حلب میں اعلان کردہ جنگ بندی پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ "حلب میں فائر بندی سے کس کو فائدہ ہوا؟ میں یہ کہتا ہوں کہ فائدہ اسی نے اٹھایا جو شام میں مقامی جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ موجود ہے"۔

حزب اللہ کی فورسز کے ساتھ اس کے عراقی اور ایرانی حلیفوں اور شامی سرکاری فوج کے کچھ حصے نے مل کر حلب کا محاصرہ کر رکھا ہے۔

حسن نصر اللہ نے اپنے خطاب میں حلب میں حزب اللہ کو ہونے والے جانی نقصان کے بارے میں اعلان کردہ اعداد و شمار پر شکوک کا اظہار کیا۔ انہوں جو تعداد ذکر کی وہ متعدد میڈیا رپورٹوں کی جانب سے مصدقہ اعداد و شمار سے کسی طور میل نہیں کھاتی اور نیوز ایجنسیوں کی جانب سے بتائی گئی حقیقت سے بہت کم ہے۔ تاہم نصر اللہ کا کہنا تھا کہ "حلب میں جاری لڑائی شدید اور گھمسان کی ہے"۔