.

"داعش" میں جُڑواں افراد کی بھرتی پر "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کی نظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش تنظیم کی جانب سے حال ہی میں ایک نئی دہشت گرد تدبیر اپنائی گئی ہے جس کے تحت جڑواں مرد اور خواتین کو بطور جنگجو بھرتی کیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب میں دو جڑواں بھائیوں خالد العرینی اور صالح العريني (19 سالہ) نے جمعے کے روز اپنے والدین اور ایک بھائی کو چاقو اور چُھروں کے ذریعے نشانہ بنایا۔ اس کے نتیجے میں ان کی والدہ جاں بحق جب کہ والد اور بھائی شدید زخمی ہو گئے۔

سعودی وزارت داخلہ کے اعلان کے مطابق جرم کا ارتکاب کرنے والوں نے تکفیری سوچ اپنایا ہوا تھا اور واردات کا یہ طریقہ کار شدت پسند تنظیم (داعش) کے طریقہ کار سے ملتا جلتا ہے جس میں عزیز و اقارب کے قتل پر اکسایا جاتا ہے۔

اس سے قبل بھی دیگر جڑواں نوجوان ، شدت پسند تنظیم کے سربراہ ابوبکر البغدادی کے جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں۔ سب سے پہلے مانچسٹر برطانیہ سے تعلق رکھنے والی دو 17 سالہ صومالی نژاد جڑواں بہنیں سلمی اور زہرہ 2013 میں شام میں داعش تنظیم میں شامل ہوئیں۔ وہ دونوں شام میں داعش کے گڑھ الرقہ شہر منتقل ہوگئیں جہاں تنظیم کے ارکان سے ان کی شادی ہوگئی۔ بعد ازاں دونوں کے شوہر ایک لڑائی میں مارے گئے۔

دونوں جڑواں بہنوں نے تنظیم میں شمولیت کے بعد سوشل میڈیا کے ذریعے مزید لڑکیوں کو بھرتی کرنے کے لیے کام کیا۔ وہ بلادِ " کُفر" کو چھوڑ دینے پر زور دیا کرتی تھیں۔

سلمی اور زہرہ کا کہنا تھا کہ " ہم اس وقت خلافت کے زیرانتظام ریاست میں ہیں لہذا ان کے احکامات کی اطاعت ناگزیر ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جو کوئی بھی اس ریاست میں نہیں آئے گا وہ کافر ہے"۔

دسمبر 2015 میں فن لینڈ کی ایک عدالت نے داعش کے جنگجوؤں میں شامل دو عراقی جڑواں بھائیوں کو عراقی فوجیوں کے قتل میں ملوث ہونے کے شبہے میں چار ماہ قید کی سزا سنائی۔

عدالت کے خیال میں دارالحکومت ہلسنکی کے شمال مغرب میں وارسا قصبے کے پناہ گزین مرکز سے گرفتار کیے جانے والے 23 سالہ عراقی جڑواں بھائیوں نے فائرنگ کر کے ، عراقی فضائیہ کے 11 طالب علموں کو ہلاک کردیا تھا۔ ہلاک شدگان جون 2014 میں عراق کے شہر تکریت کے نزدیک اسپائکر کے فضائی اڈے میں القاعدہ کے ہاتھوں قتل کردیے جانے والے دیگر سیکڑوں افراد میں شامل تھے۔

فن لینڈ کی حکومت نے اسپائکر کیس کے مذکورہ ملزمان کو حوالے کرنے اور ان کو عراقی عدلیہ کے سامنے پیش کرنے سے متعلق عراق کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔ عراقی وزیر خارجہ ابراہیم الجعفری نے ایک سابقہ گفتگو میں کہا تھا کہ "فن لینڈ میں عراقی سفارت خانہ اس سلسلے میں اپنا کام جاری رکھے گا تاکہ عراق کی درخواست کا مثبت جواب ملے اور ان ملزمان کو عراقی عدلیہ کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ اپنے کیے کی سزا پائیں"۔