.

روس شامی شہریوں کو کن بموں سے نشانہ بنا رہا ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کی رصدگاہ کے مطابق حلب کے نواحی قصبے کفرناہا پر روسی جنگی طیاروں کے ذریعے Thermite آتش گیر مادے کے حامل کلسٹر بم برسائے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔

تھرمائٹ مادہ ایلمونیئم اور آئرن آکسائڈ کے پاؤڈر پر مشمتل ہوتا ہے جو اس کو 180 سیکنڈ تک جلائے رکھتا ہے۔

شامی رصدگاہ نے شام میں مختلف علاقوں پر بمباری کے دوران روسی طیاروں کی جانب سے استعمال کیے جانے والے مختلف نوعیت کے کلسٹر بموں کی تصدیق بھی کی۔ ان بموں میں 500 کلوگرام وزنی "RBK-500 ZAB 2.5 SM"شامل ہے جس کے اندر AO 2.5 RTM نوعیت کے متعدد چھوٹے بم موجود ہوتے ہیں۔ ان چھوٹے بموں کی تعداد 50 سے 110 تک ہوتی ہے جن میں "Thermite" مادہ بھرا ہوتا ہے۔ بڑا بم فضا میں پھٹنے کے بعد چھوٹے حجم کے بموں کو ایک بڑے رقبے میں بکھیر دیتا ہے۔ یہ بم 20 سے 30 میٹر کی پہنچ میں انسانوں اور گاڑیوں کو اپنی لپیت میں لے سکتا ہے۔

شامی رصدگاہ کے مطابق روسی بمباری میں صرف آتش گیر کلسٹر بموں پر ہی انحصار نہیں کیا جا رہا بلکہ مخلتف علاقوں پر بمباری کے دوران سفید فاسفورس کا بھی استعمال کیا گیا۔ ان علاقوں میں الرقہ شہر کا مغربی نواح ، ادلب کا جنوبی نواح ، حلب کا شمال نواح اور دیر الزور کے نواح میں میدانی علاقہ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ سرحدی گزرگاہ التنف کے قریب جنگجوؤں کے خلاف بھی اس کا استعمال کیا گیا۔

اس صورت حال پر شام میں مذاکرات کی سپریم کمیٹی نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون سے مطالبہ کیا ہے کہ آتش گیر کلسٹر اور فاسفورس بموں کے ذریعے کی جانے والی روسی بمباری کے حوالے سے تحقیقات کی جائیں جو کہ بین الاقوامی طور سے ممنوعہ روایتی ہتھیاروں پر پابندی کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔