.

عراق : فلوجہ میں داعش مخالف جنگ کے خاتمے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فورسز نے مغربی شہر فلوجہ میں داعش کے زیر قبضہ آخری علاقے پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور عراقی فورسز کی جنرل کمان نے شہر میں لڑائی کے مکمل ہونے کا اعلان کردیا ہے۔

عراق کے وزیر اعظم حیدرالعبادی نے ایک ہفتہ قبل فلوجہ میں داعش کے خلاف فتح کا دعویٰ کیا تھا لیکن اس کے باوجود شہر کے علاقے جولان اور دوسرے حصوں میں لڑائی جاری رہی ہے۔

بغداد آپریشنز کمانڈ کے لیفٹیننٹ جنرل عبدالوہاب السعیدی نے اتوار کے روز کہا ہے کہ ''ہم شہر کے وسطی علاقے جولان سے یہ اعلان کررہے ہیں کہ اس کو انسداد دہشت گرد سروس نے آزاد کرا لیا ہے۔ہم عراقی عوام کو یہ اچھی خبر دینا چاہتے ہیں کہ فلوجہ کی جنگ ختم ہوگئی ہے''۔

انھوں نے بتایا ہے کہ فلوجہ پر دوبارہ کنٹرول کے لیے لڑائی میں کم سے کم اٹھارہ سو جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔قبل ازیں عراقی فورسز نے فلوجہ سے بے گھر ہوکر نکلنے والے بیس ہزار افراد کو جانچ پڑتال کی غرض سے حراست میں لینے کی اطلاع دی تھی اور اس کا مقصد داعش کے جنگجوؤں کے شہریوں کے روپ میں فرار کو روکنا تھا۔

عراق کی جائنٹ آپریشنز کمانڈ کے ترجمان نے کہا ہے کہ فورسز نے ان میں سے 2185 افراد کو شُبے کی بنا پر حراست میں لے لیا ہے اور 11605 کو رہا کردیا گیا ہے جبکہ قریباً سات ہزار سے ابھی پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔

عراقی فوج اور پولیس شہر میں لڑائی کے بعد جانیں بچا کر نکلنے والے مردوں اور نوجوان لڑکوں کو پکڑتی رہی ہیں۔ان سے الگ الگ پوچھ تاچھ کی جاتی تھی۔ان میں سے بعض کو تو چند گھنٹوں ہی میں رہا کردیا جاتا تھا جبکہ بعض سے مکمل تفتیش کی جاتی رہی ہے۔

عراقی فورسز اور ان کی اتحادی ایران کی حمایت اور تربیت یافتہ شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی کے ہتھے چڑھنے والے فلوجہ کے مکینوں نے خود کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کی اطلاع دی ہے۔شہریوں نے شیعہ ملیشیاؤں پر متعدد افراد کو موت کے گھاٹ اتارنے کے سنگین الزامات عاید کیے ہیں۔

ایک شخص نے بتایا کہ اس کو الحشد الشعبی نے چار دن تک زیر حراست رکھا تھا اور کھانے پینے کو کچھ بھی نہیں دیا تھا۔ایک اور شخص نے زیر حراست افراد پر تشدد کی اطلاع دی ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اسی ماہ عراقی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ سرکاری فورسز کی فلوجہ کے مکینوں کے خلاف تشدد آمیز کارروائیوں کی تحقیقات کرے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ وفاقی پولیس اور حکومت نواز فورسز نے فلوجہ کے شمال مشرق میں واقع علاقے سجر میں لڑائی سے جانیں بچا کر نکلنے والے سترہ افراد کو ہلاک کردیا تھا۔ہیومن رائٹس واچ کو فلوجہ کے شمال مغربی علاقے ثقلاویہ میں شہریوں کو چاقو گھونپ کر موت کی ننیند سلانے یا کاروں کے پیچھے گھسیٹ کر اذیتیں دے کر ہلاک کرنے کی بھی مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔