.

مسجد نبوی کے دروازے ماضی اور حال کے آئینے میں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تاریخ پر نظر دوڑائیں تو تاریخی عمارات کی انفرادیت میں اس کے دروازوں[ابواب] کو بھی ایک خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ یہ دروازے ان مقامات میں داخل ہونے اور باہر نکلنے کے لیے ایک راستے کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں مگر ان کی تیاری خاص اہتمام سے کی جاتی رہی ہے۔ مسجد نبوی شریف کے کل 100 ابواب ہیں اور ان کی تاریخ 1200 سال پر محیط ہے۔

مسجد نبوی کے ہر داخلی اور خارجی دروازے کا اپنا نام اور تاریخ ہے۔ بعض دروازے نامور اسلامی تاریخی شخصیات سے موسوم ہیں اور یہ سلسلہ موجودہ سعودی عرب تک پہنچتا ہے۔ مسجد کے دروازوں کی تیاری کے لیے اہتمام کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی تیاری میں یورپی ملکوں کے ماہر کاری گروں نے بھی نہایت عرق ریزی کے ساتھ ان کے نقش ونگار تیار کیے ہیں۔

حرم مسجد نبوی کے دروازوں کی اعلیٰ معیار کے مطابق نقش و نگاری، سونے کی ملع کاری، زائرین کی سہولت کے لیے عنوان نگاری اور ہر دوازے کو مختلف دینی حلقہ ہائے درس کے ساتھ وابستگی ان کی الگ الگ پہچان ہیں۔

مسجد نبوی کے دروازوں کی تیاری میں مختلف تعمیراتی مدارس کی محنت کارفرما رہی۔ المجیدیہ سلسلہ فن تعمیر بھی انہی میں سے ایک ہے جس نے مسجد کے دروازوں کی خوبصورتی اور ان پر کشیدہ کاری کے قدیم و جدید طرز کا حسین امتزاج کر کے ماضی اور حال کو آپس میں جوڑ دیا ہے۔