.

مغربی کلچرکی حوصلہ شکنی، ایران میں پالتو کتوں کی شامت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی قدامت پسند حکومت اور ترقی پسند عوام کے درمیان تہذیبی کشمکش جاری ہے۔ حکومت شہریوں کی مغربی کلچر کے مطابق گھروں میں کتے پالنے کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے ان دنوں کتے ضبط کرنے کی ایک مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس مہم کے تحت وسطی ایران کے علاقے ’’شاھین شہر‘‘ سے شہریوں کے نجی طور پر گھروں میں رکھے گئے کتوں کی پکڑ دھکڑ جاری ہے۔

شاھین شہر کے کتوں کے ایک مقامی مالک نے میڈیا کو بتایا کہ گذشتہ ہفتے ویٹرنری سروسز کے کچھ لوگ ان کے گھر پر آئے اور گھر میں موجود کتے کو اپنے ساتھ لے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ مقامی ویٹرنری سینٹر پر کتے کا پتا کرنے پہنچے تو وہاں سرے سے کوئی جانور نہیں تھا۔

اخبارات کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اصفہان گورنری اور دیگر علاقوں میں کتوں کی ضبطی کی مہم پراسیکیوٹر جنرل محسن بو سعیدی کی ہدایت پر شروع کی گئی ہے۔

گذشتہ ہفتے مسٹر بو سعیدی نے ایک بیان میں کہا تھا کتوں کی پرورش مذہبی تعلیمات کے تحت حرام ہے۔

خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو لوگ اپنے کتوں کے ہمراہ پبلک مقامات کی طرف نکلتے ہیں توہ اسلامی جمہوریہ ایران میں مغربی ثقافت کو فروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

ان کے اس بیان کے تین روز بعد شاھین شھر کتوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہو گئی تھی۔

ایران میں حیوانوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کے چیئرمین جاوید علی داؤد نے پالتو کتوں کی پکڑ دھکڑ کو خلاف قانون قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پراسیکیوٹر جنرل کا بیان شکوک وشبہات میں لپٹا ہوا ہے۔

خیال رہے کہ ایران میں کتوں کو پارکوں میں لانے اور گاڑیوں میں دوران سفر ساتھ رکھنے کی سختی سے ممانعت ہے۔ مقامی قانون کے مطابق پبلک مقامات پر کتوں کے ہمراہ گھومنے والے افراد کو جرمانے کیے جاتے ہیں۔ مگر حکومت کی سختی کے باوجود شہریوں میں کتے پالنے کے کلچر میں کمی نہیں آئی اور آئے روز شہری کتوں کو لے کر سڑکوں پر گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔