.

داعش کی نئی وڈیو میں قتل کے نئے طریقے آشکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش تنظیم نے شام کے علاقے دیر الزور میں میڈیا کے 5 کارکنان کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ساتھ ہی جرم کی توثیق کے لیے "شیطان کی وحی" کے نام سے ایک نئی خون ریز وڈیو بھی جاری کی گئی ہے۔

وڈیو ٹیپ کا آغاز آیات قرآنی سے ہوا ہے اور پھر دھمکی پیش کی گئی ہے۔ اس کے بعد متعدد کارکنان اور میڈیا ارکان کو اپنے کام کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور پھر دہشت گرد تنظیم نے بہت سے افراد کو یکے بعد دیگرے مختلف طریقوں سے قتل کرنے کے مناظر پیش کیے ہیں۔ ہر منظر پہلے سے زیادہ وحشیانہ پن اور خون ریزی پر مشتمل ہے۔ ان میں گلا کاٹنے سے لے کر کرنٹ سے مار ڈالنا اور دھماکے سے اڑا دینا بھی شامل ہیں۔

وڈیو ٹیپ میں داعش کی جانب سے نیا اعترافی بیان میں شامل ہے جس میں "حلب الیوم" چینل کے میزبان زاہر الشرقاط کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔

تنظیم کا شکار بننے والوں کے نام

وڈیو ٹیپ میں دکھائے گئے افراد نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ اپنے شہر میں بشار الاسد کی ظالم حکومت کے خلاف بطور میڈیا کارکنان اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

داعش تنظیم کی جانب سے موت کے گھاٹ اتارے جانے والے افراد کے نام یہ ہیں :

سامر محمد عبود (33 سالہ) ، سامی جودت رباح (28 سالہ) ، محمود شعبان الحاج خضر ، محمد مروان العيسى اور مصطفى حاسة۔

کارکنان بشار کی گرفت اور داعش کے جرائم کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں

یاد رہے کہ مذکورہ وڈیو ٹیپ میں تمام کارکنان کو (خواہ وہ جہاں بھی ہوں) دی گئی دھمکیاں اکلوتی نوعیت کی نہیں ہیں۔ اس لیے کہ شام میں ہر کارکن یہ جانتا ہے کہ اس کی زندگی کو خطرہ درپیش ہے اور وہ کسی بھی لمحے موت کے منہ میں جاسکتا ہے۔

میڈیا سے تعلق رکھنے والے بہت سے افراد اور دیگر کارکنان اپنے آئندہ انجام کے حوالے سے شدید خوف کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ہر کارکان خود کو لا محالہ مقتول شمار کرنے لگا ہے۔ یا تو بشار حکومت اور اس کے شانہ بشانہ لڑنے والوں کے ہاتھوں اور یا پھر داعش اور اس کے ساتھیوں کے ہاتھوں جو قتل کے ایسے طریقے دریافت کرتے ہیں جو صرف سنسنی خیز فکشن فلموں کا خاصہ ہیں۔