.

ترکی سے ڈیل،غزہ کی بحری ناکا بندی جاری رہے گی: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ترکی کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے باوجود غزہ کی پٹی کی بحری ناکا بندی جاری رہے گی۔

نیتن یاہو روم میں صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے اور ان کا یہ بیان اسرائیل میں براہ راست ٹیلی ویژن سے نشر کیا گیا ہے۔اسرائیل اور ترکی نے پانچ سال کی کشیدگی کے بعد تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ایک معاہدے سے اتفاق کیا ہے اور اس کا سوموار کو اعلان کیا گیا ہے۔

نیتن یاہو نے کہا کہ ''اس سمجھوتے کی دوسری چیز یہ ہے کہ غزہ کی پٹی کی بحری ناکا بندی جاری رہے گی۔یہ ہمارے لیے ایک اہم ترین سکیورٹی مفاد ہے۔میں اس پر سمجھوتا کرنے کو تیار نہیں تھا''۔

اسرائیل کا یہ مؤقف رہا ہے کہ غزہ کی پٹی کی بری اور بحری ناکا بندی اس کی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔اس کی وجہ سے غزہ میں ایسا مواد پہنچنے سے روکا جاتا رہا ہے اور جاسکتا ہے جس کو حماس فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرسکتی ہے۔

اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی امدادی ادارے اسرائیلی فوج کے محاصرے کاشکار فلسطینی علاقے میں بگڑتی ہوئی انسانی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔اسرائیلی فورسز نے گذشتہ ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے غزہ کی پٹی کی بری اور بحری ناکا بندی کررکھی ہے۔اس سے یہ علاقہ ایک کھلی جیل میں تبدیل ہوچکا ہے اور یہاں بے روزگاری کی شرح دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔

اسرائیل معاہدے کے تحت ترکی کو غزہ شہر میں ایک اسپتال تعمیر کرنے دے گا۔اس کے علاوہ ترکی غزہ میں بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے ایک نیا پاور اسٹیشن تعمیر کرے گا اور پینے کے صاف پانی کی بہم رسانی کے لیے پلانٹ بھی لگائے گا۔

اطلاعات کے مطابق ترکی غزہ میں اپنا امدادی سامان براہ راست نہیں بھیجے گا بلکہ اس کو اسرائیل کی جنوبی بندرگاہ اشدود کے ذریعے بھیجا جائے گا۔یادرہے کہ مئی 2010ء میں بحر متوسطہ میں ترکی کی جانب سے بھیجے گئے ایک بحری امدادی قافلے پر اسرائیلی فورسز نے دھاوا بول دیا تھا جس کے نتیجے میں دس ترک کارکنان جاں بحق ہوگئے تھے۔اس واقعے کے بعد سے اسرائیل اور ترکی کے درمیان کشیدگی چلی آرہی تھی اور دونوں نے سفارتی ،سیاسی ،عسکری اور تجارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے۔