.

ترک صدر کی اسرائیل سے معاہدے پر محمود عباس سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے اتوار کی شب اپنے فلسطینی ہم منصب محمود عباس سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے اور انھیں اسرائیل سے غزہ میں انسانی صورت حال کی بہتری کے لیے طے پائے معاہدے کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔

ان کی اس فون کال سے قبل ترکی اور اسرائیل کے سینیر عہدے داروں نے بتایا ہے کہ دونوں ممالک دوطرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ایک ڈیل پر متفق ہوگئے ہیں۔ ترکی کے صدارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس نے اس پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو روم میں اور ترک وزیراعظم بن علی یلدرم انقرہ میں اس معاہدے کا اعلان کرنے والے تھے۔

دونوں ملکوں کے درمیان 2010ء میں اسرائیلی بحری کمانڈوز کے ترکی کی جانب سے غزہ بھیجے گئے امدادی بحری جہازوں کے قافلے پر حملے کے بعد تعلقات منقطع ہوگئے تھے۔اس حملے میں دس ترک رضاکار جاں بحق ہوگئے تھے۔

ایک اسرائیلی عہدے دار کے مطابق اسرائیل نے جاں بحق افراد کے خاندانوں کو دو کروڑ ڈالرز ہرجانے کے طور پر ادا کرنے سے اتفاق کیا ہے۔واضح رہے کہ اسرائیل پہلے ہی اس تباہ کن حملے پر ترکی سے معافی مانگ چکا ہے۔ترکی اسرائیل سے ان دو شرائط کے علاوہ غزہ کی پٹی کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ایک سینیر ترک عہدے دار نے اسرائیل سے معاہدے کو ترکی کی سفارتی فتح قراردیا ہے کیونکہ اسرائیل نے ترکی کی سفارتی تعلقات کی بحالی کے لیے تین میں سے دو شرائط کو تسلیم کر لیا۔ البتہ اس نے غزہ کی پٹی کا محاصرہ ختم کرنے کی شرط تسلیم نہیں کی ہے۔

معاہدے کے تحت ترکی غزہ میں انسانی امداد اور دوسری غیر فوجی مصنوعات مہیا کرے گا۔وہ غزہ کی پٹی میں رہائشی عمارتیں اور ایک اسپتال تعمیر کرے گا۔اس کے علاوہ غزہ شہر میں آب رسانی کا نظام بہتر بنانے اور بجلی کے بحران کو دور کرنے کے لیے بھی اقدامات کرے گا۔