.

اردن کی بلیک مارکیٹ میں سی آئی اے کے اسلحے کی فروخت

اردنی انٹیلی جنس اہلکاروں نے شامی باغیوں کے ہتھیار چُرا کر دام کھرے کرلیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) اور سعودی عرب کی جانب سے اردن میں شامی باغیوں کے لیے بھیجے گئے ہتھیار اردنی انٹیلی جنس کے اہلکاروں نے چُرا لیے ہیں اور انھیں بلیک مارکیٹ میں اسلحے کے سوداگروں کے ہاتھ فروخت کردیا ہے۔

نیویارک ٹائمز اور الجزیرہ کی مشترکہ تحقیقات کے مطابق چرائے گئے ہتھیاروں میں سے بعض گذشتہ سال نومبر میں عمان میں پولیس کے ایک تربیتی کیمپ پر حملے میں استعمال کیے گئے تھے۔اس حملے میں دو امریکیوں سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ایک اردنی افسر نے امریکا کی مالی مدد سے عمان کے نزدیک قائم کیے گئے تربیتی کیمپ میں امریکی حکومت کے دو سکیورٹی کنٹریکٹروں ،جنوبی افریقا سے تعلق رکھنے والے ایک کنٹریکٹر اور دو اردنیوں کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا۔بعد میں اردنی اہلکاروں نے اس افسر کو گولی مار دی تھی۔

اردنی دارالحکومت کے نواح میں یہ تربیتی مرکز سنہ 2003ء میں امریکا کی عراق پر چڑھائی کے بعد قائم کیا گیا تھا۔اس کا مقصد بعد از جنگ عراقی سکیورٹی فورسز کی تشکیل وتربیت میں مدد دینا اور فلسطینی اتھارٹی کے پولیس افسروں کو بھی تربیت دینا تھا۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق فائرنگ کے واقعے میں استعمال کیے گئے ہتھیار اردن میں شامی باغیوں کے تربیتی پروگرام کے لیے بھیجے گئے تھے۔ان ہتھیاروں کی چوری سے متعلق امریکی اور سعودی حکومتوں نے بھی شکایات کی تھیں۔ان سے اسلحے کی بلیک مارکیٹ میں جدید ہتھیاروں کی بھرمار ہوگئی تھی۔

اخبار نے اردنی حکام کے حوالے سے لکھا ہے کہ شامی باغیوں کے لیے بھیجے گئے ان ہتھیاروں کی فروخت سے اردنی افسروں نے ڈھیروں دولت کمائی ہے اور انھوں نے ان رقوم کو آئی فونز ،ایس یو وی گاڑیوں اور دوسری پرتعیش اشیاء کی خریداری پر صرف کیا ہے۔سی آئی اے نے فوری طور پر اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔