.

مسجد اقصیٰ میں دوسرے روز بھی جھڑپیں، متعدد زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقبوضہ بیت المقدس میں مسلمانوں کے قبلہ اول مسجد اقصیٰ کے احاطے میں فلسطینیوں اور اسرائیلی پولیس کے درمیان سوموار کو مسلسل دوسرے روز بھی جھڑپیں ہوئی ہیں۔اردن کے تحت اسلامی وقف نے اسرائیلی حکام پر رمضان کے دوران مفاہمتی سمجھوتا توڑنے کا الزام عاید کیا ہے۔

اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہونے والے فلسطینیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے،ان پر اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں اور ربر کی گولیاں چلائی ہیں۔فلسطینی نوجوانوں نے پولیس کی کارروائی سے بچنے کے لیے جوابی پتھراؤ کیا ہے۔

فلسطینی میڈیا کی اطلاع کے مطابق اسرائیلی فورسز کی کارروائی میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔اسرائیلی پولیس کی خاتون ترجمان نے پولیس کارروائی اور تشدد کا جواز یہ پیش کیا ہے کہ نقاب پوش نوجوانوں کے مسجد میں رات داخلے اور ان کے پوزیشنیں سنبھالنے کی اطلاع ملی تھی اور انھوں نے مبینہ طور پر دروازے بھی بند کردیے تھے۔اسرائیلی پولیس نے اتوار اور سوموار کو دس افراد کو مشتبہ قرار دے کر گرفتار کر لیا ہے۔

اسلامی وقف کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام رمضان میں غیرمسلموں کو بھی مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت دے رہے ہیں اور یہ ایک دیرینہ روایت کی خلاف ورزی ہے جس کے تحت رمضان المبارک کے آخری عشرے میں صرف مسلم عبادت گزاروں کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے کی اجازت ہوتی ہے۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اتوار سے رمضان کے آخری عشرے کا آغاز ہوا ہے۔ان دس روز کے دوران میں مسلمانوں کی بڑی تعداد عبادت کے لیے مسجد اقصیٰ کا رُخ کرتی ہے۔عمومی طور پر یہود سمیت غیرمسلموں کو مسجد اقصیٰ میں مقررہ وقت کے دوران ہی آنے کی اجازت دی جاتی ہے لیکن وہ وہاں عبادت نہیں کرسکتے تاکہ کسی بھی قسم کی کشیدگی سے بچا جاسکے۔

مسجد اقصیٰ کے انتظام وانصرام کے ذمے دار اردنی وقف اور مقبوضہ بیت المقدس کے علماء نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی حکام نے برسوں سے جاری سمجھوتے کو توڑ دیا ہے اور انھوں نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ الاقصیٰ کے معاملے میں وقف کو نہیں بلکہ انھیں ہی حرف آخر کا درجہ حاصل ہے۔''

اردن نے بھی اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے بارے میں طے شدہ قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں اسرائیلی حکام سے رابطے میں ہے۔

اتوار کو بھی مسجد اقصیٰ کے احاطے میں اسرائیلی پولیس اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں اور پولیس نے بعض نوجوانوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔فلسطینی انجمن ہلال احمر کا کہنا ہے کہ اس نے مقبوضہ بیت المقدس کے ایک اسپتال میں سات زخمیوں کو منتقل کیا ہے۔وہ تشدد ،اشک آور گیس اور ربر کی گولیوں سے زخمی ہوئے تھے۔

اسرائیلی پولیس کا کہنا تھا کہ مسجد اقصیٰ میں تعینات افسروں نے چار نقاب پوش نوجوانوں کو گرفتار کرلیا تھا۔وہ ٹیمپل ماؤنٹ میں آنے والے غیرمسلموں کی آمد ورفت میں رخنہ ڈال رہے تھے۔

واضح رہے کہ یہود مسجد اقصیٰ کو ٹیمپل ماؤنٹ کے نام سے پکارتے ہیں اور اس کو اپنے لیے مقدس قرار دیتے ہیں۔یہیں ان کی مشہور دیوار گریہ واقع ہے جس کے نیچے وہ عبادت کرتے ہیں۔اسرائیل نے سنہ 1967ء کی جنگ میں بیت المقدس شہر پر قبضہ کر لیا تھا اور بعد میں اس کو ضم کر لیا تھا لیکن عالمی برادری اس کے اس اقدام کو تسلیم نہیں کرتی ہے۔