.

ایرانی آئل ٹینکرز بشار کی جنگ کا پیٹ بھر رہے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

"بلومبرگ" نیوز نیٹ ورک نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 2011 میں شام میں انقلابی تحریک کے آغاز کے بعد سے ایران ٹینکروں کے ذریعے کروڑوں بیرل تیل بشار الاسد حکومت کو بھیج چکا ہے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ اس اقدام کا مقصد شامی حکومت کو سقوط سے بچانا ، شامی عوام کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن کو جاری رکھنا اور شام میں ایرانی رسوخ کو وسیع کرنا ہے۔

امریکی وزارت توانائی کے اندازے کے مطابق 2011 میں انقلابی تحریک کے آغاز کے ساتھ ہی شام کی تیل کی یومیہ پیداوار 4 لاکھ بیرل سے کم ہو کر 20 ہزار بیرل کے قریب رہ گئی۔

گزشتہ موسم گرما میں امریکی وزارت خارجہ نے اس امر کی تصدیق کی تھی کہ ایران براہ راست صورت میں تیل بھیج کر شام کی اس قلت کی تلافی میں مدد کر رہا ہے۔

تیل کے ٹینکروں کی نقل و حرکت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران نے رواں سال 2016 میں ابھی تک شام کو تقریبا 1 کروڑ بیرل خام تیل بھیجا ہے جو کہ یومیہ 60 ہزار بیرل کے قریب بنتا ہے۔

گزشتہ چھ ماہ کے دوران تیل کی اوسط قیمت 59 ڈالر فی بیرل کے لحاظ سے گویا کہ ایران نے جنوری 2016 سے اب تک 60 کروڑ ڈالر کے قریب امداد دی ہے۔

نقدی کی صورت میں سپورٹ

رپورٹ کے مطابق یہ سپورٹ صرف تیل کی امداد تک محدود نہیں بلکہ نقدی کی صورت میں امداد بھی ہے۔ شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹیفن ڈی میستورا کے نزدیک ایران بشار الاسد کی حکومت کی سپورٹ کے لیے سالانہ تقریبا 6 ارب ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ دوسری جانب دیگر ذرائع کے خیال میں حزب اللہ جو بشار الاسد کے لیے جنگجو فراہم کر رہی ہے ، اس کے لیے ایران کی سپورٹ سالانہ 15 یا 20 ارب ڈالر ہے۔

ایران تیل کس طرح بھیجتا ہے؟

"بلومبرگ" کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ رواں سال کے آغاز کے بعد سے اب تک کم از کم 10 ایرانی بحری جہاز شام کی بندرگاہ بانیاس پہنچے جو کہ ابھی تک بشار حکومت کے زیر کنٹرول ہے۔ آبنائے ہرمز کے راستے ان جہازوں کے سفر میں 2 سے 3 ہفتے لگتے ہیں۔

ایران خام تیل شام بھیجنے کے لیے صرف تین ٹینکروں کا استعمال کرتا ہے جو تمام ایک ہی درجےSuezmax میں آتے ہیں اور ان میں سے ہر جہاز 10 لاکھ بیرل کے قریب لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس سلسلے میں "دی واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی" کے ایک نمایاں محقق اینڈرو ٹیبلر کا کہنا ہے کہ " شام میں تیل اور گیس پیدا کرنے والے زیادہ تر علاقوں پر کردوں اور داعش کے قبضے کے بعد ، ہم دیکھتے ہیں کہ ایران کی جانب سے شام کو بھیجا جانے والا خام تیل بشار الاسد کے اقتدار سے چمٹے رہنے کی صلاحیت میں اضافہ کر رہا ہے"۔

بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی

"بلومبرگ" کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے اُن بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی کی ہے جو اُس کے متنازع نیوکلیئر پروگرام کی وجہ سے امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے عائد کی گئی تھیں۔

اس حوالے سے واشنگٹن میں قائم ادارے Foundation for Defense of Democracies کے چیف ایگزیکٹو مارک ڈوبوئٹز کا کہنا ہے کہ "یہ امریکا کی جانب سے عائد پابندیوں کی کھلی خلاف ورزی ہے"۔ انہوں نے مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کے خیال کی حمایت کی۔

ایسا نظر آتا ہے کہ جون 2015 میں ویانا معاہدے کے تحت ایران پر سے بین الاقوامی پابندیاں اٹھائے جانے کے ساتھ ہی ، تہران کی جانب سے بشار الاسد حکومت کے لیے خام تیل کی امداد میں اضافہ ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ بیرون ممالک میں ایران کے منجمد اثاثے واپس ملنے کے بعد دمشق کی مالی سپورٹ بھی بہتر ہوجائے گی۔ مبصرین کے مطابق عالمی برادری اس دوران ان اقدامات پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکے گی جو کہ ایران کی جانب سے دہشت گردی کی سپورٹ کی نمایاں مثالوں میں شمار ہوتے ہیں۔