.

مصر: ڈاکٹرمرسی کی حکومت کے دھڑن تختے کی خوشی میں قومی جشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کے 2013ء میں مسلح افواج کے ہاتھوں دھڑن تختے کی خوشی میں آج جمعرات کو قومی دن منایا گیا ہے۔

دارالحکومت قاہرہ پر دن بھر لڑاکا طیارے پروازیں کرتے دکھائی دیے ہیں اور صدر عبدالفتاح السیسی کے حامیوں نے ریلیاں نکالی ہیں۔وہ افطاری کے بعد بھی اجتماعات منعقد کررہے ہیں۔حکومت نے ایک ہفتہ قبل کہ ''30 جون انقلاب'' کا سرکاری سطح پر جشن منانے کا اعلان کیا تھا۔

تاریخی شہر الاقصر میں فراعنہ دور کے آثار کے اوپر غباروں کے ساتھ قومی پرچم فضا میں چھوڑے گئے ہیں اور حکام نے دریائے نیل کے ساتھ ایک پریڈ کا بھی اہتمام کررکھا تھا۔اس کے علاوہ مصریوں کو قومی عجائب گھروں میں مفت داخلے کی سہولت دی گئی ہے۔

یادرہے کہ 30 جون 2013ء کو لاکھوں لوگوں نے دارالحکومت قاہرہ اور دوسرے شہروں میں اس وقت کے صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کے خلاف مظاہرے کیے تھے اور انھیں ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔عبدالفتاح السیسی تب مصر کی مسلح افواج کے سربراہ تھے۔انھوں نے منتخب صدر ڈاکٹر مرسی کو ''عوام کے مطالبات'' کو پورا کرنے کے لیے 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا۔اس کے بعد فوج نے 3 جولائی کو ان کی حکومت ختم کردی تھی اور انھیں اور ان کے سرکردہ وزراء کو گرفتار کر لیا تھا۔

صدر السیسی نے قومی ٹیلی ویژن سے نشر کی گئی ایک تقریر میں کہا ہے کہ ''مصر اس ''انقلاب'' کی خوشی منا رہا ہے۔اس کے نتیجے میں مصری عوام نے دوبارہ اپنی شناخت حاصل کی تھی۔اپنی سمت درست کی تھی اور پوری دنیا پر یہ ثابت کردیا تھا کہ ان کے عزم کو توڑا نہیں جا سکتا ہے،انھیں دبایا نہیں جاسکتا ہے''۔

فوجی سربراہ کے ملک کے پہلے منتخب صدر مرسی کو معزول کرنے کے فیصلے کے خلاف اخوان المسلمون اور اس کی اتحادی جماعتوں نے سخت احتجاج کیا تھا اور انھوں نے قاہرہ میں دومقامات پر قریباً ڈیڑھ ماہ تک دھرنے دیے رکھے تھے۔ان دھرنوں کے خلاف مصری فورسز نے 14 اگست 2013ء کو سخت کریک ڈاؤن کیا تھا اور اخوان اور دوسری جماعتوں کے چھے،سات سو کارکنان کو تشدد آمیز کارروائیوں میں ہلاک کردیا تھا۔

عبدالفتاح السیسی فوج سے سبکدوش ہونے کے بعد 2014ء میں ملک کے منتخب صدر ہوگئے تھے۔تب جن گروپوں اور کارکنان نے ان کے حق میں مظاہرے کیے تھے،بعد میں وہ ان کی حکومت کے عتاب کا شکار ہوگئے تھے کیونکہ وہ ان کی مطلق العنانیت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔

ڈاکٹر مرسی کی حکومت کے خاتمے کے بعد مصری فورسز کی کریک ڈاؤن کارروائیوں میں سیاسی جماعتوں اور مذہبی گروپوں کے ڈیڑھ سے دو ہزار کے درمیان کارکنان ہلاک ہوگئے تھے جبکہ ہزاروں کو گرفتار کرکے جیلوں میں بند کردیا گیا تھا۔ان میں سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کے خلاف 2011ء میں عوامی احتجاجی تحریک میں ہراول دستے کا کردار ادا کرنے والے سیکولر کارکنان بھی شامل ہیں۔

صدر عبدالفتاح السیسی اور ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی عمل داری قائم کرنے کے لیے اس طرح کا کریک ڈاؤن ناگزیر تھا کیونکہ مصری فورسز کو شورش زدہ علاقے جزیرہ نما سیناء میں دولت اسلامی (داعش) سے وابستہ گروپ کی مسلح شورش کا سامنا ہے۔اس مسلح جنگجو گروپ کی تشدد آمیز کارروائیوں میں سیکڑوں پولیس اہلکار اور فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔

مصری فورسز نے ان جنگجو گروپوں کے ساتھ ساتھ سابق حکمراں اخوان المسلمون کے کارکنان کے خلاف بھی گذشتہ برسوں کے دوران خونیں کریک ڈاؤن کیا ہے اور اس وجہ سے صدر السیسی کی حکومت کو حکومت مخالفین کے خلاف سکیورٹی فورسز کی سفاکانہ کارروائیوں، انسانی حقوق کی پامالیوں اور عوام اور ملک کو درپیش معاشی مسائل کا ازالہ نہ کرنے کی وجہ سے مختلف حلقوں کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا رہا ہے۔

مصری صدر عبدالفتاح السیسی سرکاری ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کررہے ہیں۔
مصری صدر عبدالفتاح السیسی سرکاری ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کررہے ہیں۔