.

ايران کوئی رول ماڈل نہیں : خامنہ ای کے معاون کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لندن سے شائع ہونے والے عربی اخبار الشرق الاوسط نے ایران کی نیوز ویب سائٹ جماران کے حوالے سے ایرانی نظام کے سرکردہ رہ نماؤں کے درمیان ملک میں بدعنوانی کے حوالے سے الزامات کے تبادلے کو نقل کیا ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری ذمہ داران کی بھاری بھرکم تنخواہوں کے اسکینڈل کے پیچھے موجود اداروں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

اس دوران مرشد اعلی علی خامنہ ای کے ایک معاون نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کوئی ایسا ماڈل نہیں جس کو موزوں خیال کیا جائے۔

خامنہ ای کے معاون علی اکبر ناطق نوری کے تسلیم کیا کہ گزشتہ 37 برسوں کے دوران ایرانی نظام بہت سے معاملات میں تنزلی کا شکار ہوا ہے۔

انہوں نے عدلیہ کے حکام کو ایران میں بدعنوانی کا مورود الزام ٹھہرایا۔ ناطق نوری نے ملک کے موجودہ حالات کا پس منظر اور منشیات ، بے گھر افراد اور رشوت ستانی بالخصوص بھاری تنخواہوں کے معاملے سے متعلق حکومت کے اعلان کردہ اعداد و شمار کی وضاحت کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ایران کوئی رول ماڈل ہر گز نہیں ہے۔

بعض حلقوں نے ایران میں سیاسی اور جماعتی اہداف کے لیے مذہبی مواقع اور منبروں کے استحصال کو ناقابل قبول امر قرار دیا۔