.

گروپ چار کا اسرائیل سے فلسطین میں توسیع پسندی روکنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی برادری کی جانب سے ایک بار پھر اسرائیل سے فلسطینی علاقوں میں غیرقانونی یہودی آباد کار کا سلسلہ روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے سرگرم گروپ چار [امریکا، روس، یورپی یونین اور اقوام متحدہ] نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاری کا سلسلہ فوری طور پر بند کرے۔

غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کو نیوارک میں سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گروپ چار کے مندوب نیکولائے ملاڈینوف نے فلسطینی علاقوں میں پرتشدد واقعات اور دہشت گردانہ کارروائیوں کی شدید مذمت کی اور ساتھ ہی اسرائیل پر یہودی آباد کاری کا سلسلہ فوری طورپر بند کرنے پر زور دیا۔

ملاڈینوف کا کہنا تھا کہ گروپ چار فلسطین میں پرتشدد واقعات اور فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاری دونوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر انتہائی تشویشناک ہے کہ فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر فلسطینی اتھارٹی کے بجائے حماس کا کنٹرول قائم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ فلسطین میں متحارب فریقین [اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی] سنہ 2014ء کے بعد سے تعطل کا شکار بات چیت کا عمل بحال کرنے کےلیے سنجیدہ اقدامات کریں گے۔ گروپ چار کے مندوب کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا قیام امن ایک مشکل چیلنج ہے مگر فلسطینی انتظامیہ اور اسرائیل دونوں کو اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔

خیال رہے کہ گروپ چار جو روس، امریکا، یورپی یونین اور اقوام متحدہ پر مشمل ایک بین الاقوامی فورم ہے جو مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی بالخصوص فلسطین۔ اسرائیل تنازع کے پرامن حل کے لیے کوشاں ہے۔

گذشتہ روز سلامتی کونسل میں گروپ چار کی جانب سے ایک رپورٹ بھی پیش کی گئی جس میں فلسطینیوں کی انفرادی مزاحمتی کارروائیوں اور اسرائیل کی توسیع پسندی دونوں کی سخت مخالفت اور مذمت کی گئی ہے۔

اس موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرانس کے سفیرفرانسو ڈولاٹر نے کہا کہ گروپ چار کی رپورٹ پیرس کی میزبانی میں منعقدہ مشرق وسطیٰ امن کانفرنس کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مفید ثابت ہوسکتی ہے۔