.

یمنی بچوں کی بھرتی کے لیے حوثیوں کے عسکری کیمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں قبائلی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ باغی حوثی ملیشیاؤں کی جانب سے ملک کے چار صوبوں میں بچوں کو زبردستی بھرتی کرنے کی مہم جاری ہے۔

ذرائع نے واضح کیا کہ ملیشیاؤں نے صنعاء کے مغرب میں المحویت میں سیکڑوں بچوں کے لیے تربیتی کیمپ قائم کر دیے ہیں اور والدین کو مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ اپنے علاقوں کی حفاظت کے لیے اپنے بچوں کو بھرتی کروائیں۔ تاہم والدین ان بچوں کو نہم میں لڑائی کے محاذوں پر منتقل کیے جانے کے سبب حیران و پریشان ہیں۔ ذرائع کے مطابق عمران صوبے میں بھی دیگر کیمپ قائم کیے گئے ہیں جہاں مذکورہ صوبے اور حجہ صوبے سے تعلق رکھنے والے درجنوں بچوں کو تربیت فراہم کی جارہی ہے۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اسلحے کی لالچ یا زبردستی چھین لیے جانے والے بچوں میں سے درجنوں بچوں کو گزشتہ چند روز کے دوران نہم سے بکسوں کے اندر رکھ کر ان کے والدین تک واپس پہنچایا گیا۔

گزشتہ کچھ عرصے میں ذمار صوبے میں بھی سیکڑوں بچوں کو بھرتی کیا گیا اور ان کو تعز اور لحج صوبوں میں محاذوں پر کُمک کی حیثیت سے دھکیل دیا گیا۔

یمن میں انسانی حقوق کے ذرائع کے مطابق رواں سال 2016 کے آغاز سے اب تک باغی حوثی ملیشیاؤں نے تقریبا 8 ہزار بچوں کو بھرتی کیا ہے۔

گزشتہ جون میں اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں حوثی ملیشیاؤں کی جانب سے وسیع پیمانے پر بچوں کی بھرتیوں اور انہیں لڑائی کے محاذوں میں جھونک دینے کی سخت مذمت کی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق 2014 کے مقابلے میں یمن میں بھرتی کیے جانے والے بچوں کی تعداد میں 5 گنا اضافہ ہوا ہے۔

اس سے قبل عوامی مزاحمت کاروں نے بھی متعدد بار ملیشیاؤں کی صفوں میں جنگجو بچوں کے قیدی بنائے جانے کا اعلان کیا ہے۔ مزاحمت کاروں کا کہنا ہے کہ ان کو ایسے ثبوت حاصل ہوئے ہیں کہ حوثیوں نے قانونی طور پر کم سن بچوں کو بھرتی کر کے ان کو لڑائی میں شامل ہونے پر مجبور کیا ہے۔ یہ سب کچھ اُن بین الاقوامی رپورٹوں کے باوجود عمل میں آیا جن میں بچوں کی بھرتی اور ان کو تنازعات اور جنگوں میں بطور ایندھن استعمال کیے جانے سے خبردار کیا گیا۔