اسرائیلی فوج کی غزہ میں حماس اور جہاد اسلامی کی تنصیبات پر بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فضائیہ نے غزہ کی پٹی میں ہفتے کو علی الصباح حماس اور الجہادالاسلامی کی چار تنصیبات پر حملے کیے ہیں۔اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ بمباری فلسطینیوں کے ایک راکٹ حملے کے جواب میں کی گئی ہے۔

فلسطینی سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایک ورکشاپ، حماس کے عسکری ونگ کی دو جگہوں اور جہاد اسلامی کے ایک تربیتی کیمپ پر بمباری کی ہے۔ان میں سے دو جگہیں غزہ شہر اور دو غزہ کی پٹی کے شمال میں بیت لاھیا میں واقع ہیں۔ان تمام تنصیبات پر اسرائیلی فوج پہلے بھی فضائی حملے کرچکی ہے۔

اسرائیلی فوج نے ان حملوں کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی کے شمال اور وسط میں چار مقامات کو ہدف بنایا ہے اور یہ تمام اہداف حماس کے آپریشنل بنیادی ڈھانچے کا حصہ تھے۔ فضائی حملے میں ان تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

غزہ کی پٹی سے جمعہ کی شب داغا گیا ایک راکٹ اسرائیل کے جنوبی شہر سدیروت میں ایک عمارت پر گرا تھا جس سے اس عمارت کو نقصان پہنچا ہے لیکن اس سے کوئی شخص زخمی نہیں ہوا ہے۔اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ راکٹ ایک کنڈر گارٹن پر گرا تھا لیکن فوج نے اس کی مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے۔

کسی گروپ نے راکٹ حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔2016ء کے آغاز کے بعد سے غزہ کی پٹی سے اسرائیل کی جانب تیرہ راکٹ فائر کیے جا چکے ہیں۔اسرائیل حماس ہی کو ان تمام راکٹ حملوں کا ذمے دار قرار دیتا چلا آ رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں