مسجد حرام میں 50 سے زیادہ مقامات پر شہری دفاع متعین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مسجد حرام کے مطاف میں بیت اللہ کے گرد چکر لگاتے انسان ، سمندر کی موجوں کی مانند نظر آتے ہیں۔ اس دوران عمر رسیدہ افراد اور بچوں کو اژدہام یا دم گھٹنے کی صورت حال کا سامنا کرنے کے بڑی حد تک امکانات ہوتے ہیں تاہم شہری دفاع کے اہل کار ہر دم تیار رہتے ہیں۔

اس سلسلے میں شہری دفاع کے ایک افسر نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ " شہری دفاع کی فورس درحقیقت ریاست کی جانب سے بہت بڑی سپورٹ ہے۔ لاجسٹک سپورٹ ، تربیت اور صلاحیتوں کے حوالے سے یہ فورس دنیا کے بڑے ممالک کی سول ڈیفنس فورسز سے کسی طور کم نہیں۔ ہمارے فورس مخلص اور جاں باز اہل کاروں پر مشتمل ہے"۔

مسجد حرام میں مجمعے کے انتظام سے متعلق حکام کی جانب 50 سے زیادہ ریسکیو پوائنٹس ہیں۔ یہاں موجود وسیع سابقہ تجربے کے حامل اہل کار چوبیس گھنٹے کڑی نگرانی کے لیے مستعد اور چاق و چوبند رہتے ہیں۔

شہری دفاع کے افسر کے مطابق " سول ڈیفنس کے جنرل ڈائرکٹریٹ میں ایسے اہم مقامات پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے جو شہری دفاع کے اہل کاروں کی موجودگی کا تقاضا کرتے ہیں۔ خواہ یہ مقامات حرم شریف کے اندر ہوں ، اس کے صحنوں میں یا پھر اطراف کے راستوں میں"۔

خدمت کے جذبے سے سرشار شہری دفاع کے اہل کار حرم مکی کے صحنوں اور اس کے دروازوں کے علاوہ گذرگاہوں پر بھی پھیلے ہوئے ہوتے ہیں تاکہ عمر رسیدہ افراد اور بچوں کے لیے مدد امداد اور معاونت پیش کی جاسکے۔

شہری دفاع کے ایک دوسرے افسر نے بتایا کہ " ہمارے سامنے آنے والے اکثر حالات کا تعلق بڑھاپے کے امراض سے ہوتا ہے جن میں ذیابیطس اور بلند فشار خون شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چوں کہ ہم موسم گرما اور روزے کے مہینے میں ہیں لہذا تھکن کی صورت حال بھی کافی زیادہ دیکھنے میں آتی ہے۔ تاہم الحمد للہ ہمارے ساتھیوں کی جانب سے تمام صورت حال کو براہ راست نظر میں رکھا جاتا ہے"۔

ماہ رمضان میں مسجد حرام کا مطاف انسانی کثافت اور شہری دفاع کے اہل کاروں کی جانب سے ریسکیو پلانوں پر عمل اور فوری مداخلت کے لحاظ سے دنیا میں پہلے نمبر پر ہوتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں