بغداد: دو بم دھماکے، 125 افراد ہلاک، کم سے کم 200 زخمی

داعش نے کرادہ میں خودکش کار بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے دارالحکومت بغداد میں ہفتے کی رات اور اتوار کی صبح دو الگ الگ بم دھماکوں میں مرنے والوں کی تعداد ایک سو پچیس ہوگئی ہے اور کم سے کم دو سو افراد زخمی ہوئے ہیں۔بغداد کے مصروف کاروباری علاقے کرادہ میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے خودکش کار بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔

پولیس اور اسپتال ذرائع کے مطابق کرادہ میں خودکش بمبار نے ہفتے کی شب اپنی بارود سے بھری گاڑی کو دھماکے سے اڑایا ہے جس سے ایک سو بیس افراد ہلاک اور ایک سو ساٹھ سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔اس وقت خواتین اور بچوں سمیت لوگوں کا بازار میں خریداری کے لیے بڑا رش تھا۔

داعش نے آن لائن جاری کردہ ایک بیان میں اس خودکش بم دھماکے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے جان بوجھ کر اہل تشیع کو اس بم حملے میں نشانہ بنایا ہے۔اس بیان کی فوری طور پر تصدیق ممکن نہیں۔

بم دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس سے متعدد عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں اور نزدیک واقع کئی عمارتوں اور دکانوں کو آگ لگ گئی۔امدادی کارکنان اتوار کی صبح تک ملبے تلے افراد کی لاشیں نکالتے رہے ہیں اور آگ بجھانے والا عملہ آگ بجھانے میں مصروف رہا ہے۔ایک عینی شاہد نے بتایا ہے کہ دھماکے سے نزدیک واقع کپڑے اور سیل فون کی دکانوں کو آگ لگ گئی تھی۔

اس بم دھماکے کے کئی گھنٹے کے بعد عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا مگر انھیں عوامی غیظ وغضب کا نشانہ بننا پڑا۔سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی فوٹیج میں مشتعل ہجوم عراقی وزیراعظم کے خلاف نعرے بازی کررہا تھا۔لوگ انھیں ''چور'' کہہ رہے تھے اور ان کے قافلے پر چلا رہے تھے۔

بغداد کے مشرقی علاقے میں ایک اور بم دھماکا ہوا ہے جس سے پانچ افراد ہلاک اور سولہ زخمی ہوگئے ہیں۔کسی گروپ نے اس بم حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔عراقی پولیس اور اسپتال ذرائع نے ان ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں