بغداد میں تباہ کن بم دھماکے کے بعد عراقی وزیر اعظم کے قافلے پر پتھراؤ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے وزیر اعظم حیدرالعبادی دارالحکومت بغداد کے علاقے کرادہ میں تباہ کن کار بم دھماکے کے بعد شہریوں کے غیظ وغضب کا نشانہ بن گئے ہیں اور مشتعل بغدادیوں نے ان کے قافلے پر پتھراؤ کیا ہے،جوتے اور بوتلیں پھینکی ہیں۔

کرادہ کے مصروف کاروباری علاقے میں ہفتے کی شب تباہ کن کار بم دھماکے کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد ایک سو بیس ہوگئی ہے اور کم سے کم دو سو افراد زخمی ہوئے ہیں۔سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے اس تباہ کن بم دھماکے کی ذمے داری قبول کی ہے۔

سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی فوٹیج کے مطابق وزیراعظم حیدر العبادی اتوار کو جب بم دھماکے کی جگہ پر پہنچے تو مشتعل ہجوم نے ان کے خلاف نعرے بازی شروع کردی اور بعض نے انھیں ''چور'' قرار دینے سے بھی گریز نہیں کیا۔

عینی شاہدین کے مطابق مشتعل ہجوم نے وزیراعظم کی کار پر پتھر، جوتے اور بوتلیں پھینکی ہیں۔کرادہ کے مکینوں کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ملک میں امن وامان کے قیام کے لیے اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہے ہیں اور بغداد کی سکیورٹی کو نظرانداز کرتے ہوئے تمام تر توجہ داعش کے خلاف جنگ میں مرکوز کی جارہی ہے۔

داعش کے خودکش بمبار نے کرادہ میں اپنی بارود سے بھری گاڑی سے ایک مصروف شاپنگ مال کو ہدف بنانے کی کوشش کی تھی۔دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس سے چار شاپنگ مال سمیت عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے یا وہ جزوی طور پر تباہ ہوگئی ہیں۔آج ملبے تلے دبی مزید لاشیں نکالی گئی ہیں اور اسپتال میں بعض زخمی دم توڑ گئے ہیں جس سے ہلاکتوں کی تعداد پچاسی سے بڑھ کر ایک سو بیس ہوگئی ہے۔

درایں اثناء عراق میں اقوام متحدہ کے نمائندے جان کوبیس نے کرادہ میں بم حملے کو بزدلانہ اور سنگین کارروائی قرار دیا ہے۔انھوں نے عراقی حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ عیدالفطر کے موقع پر شہریوں کے تحفظ کے لیے سکیورٹی کے انتظامات بہتر بنائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں