شام: امریکی حمایت یافتہ باغی گروپ کے سربراہ سمیت 40 جنگجو اغوا

النصرۃ محاذ پر باغی کمانڈر کو اغوا کرنے اور جیش التحریر کا اسلحہ ہتھیانے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ نے شمال مغربی علاقے میں امریکا کے حمایت یافتہ باغیوں کے ہیڈ کوارٹرز پر دھاوا بول کر ان کے کمانڈر اور دسیوں جنگجوؤں کو گرفتار کر لیا ہے۔

جیش التحریر نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''النصرۃ محاذ کے جہادیوں نے اس کے کمانڈر محمد الغبی کو کفرنبل سے ان کے والد کے مکان سے اغوا کر لیا ہے۔النصرۃ محاذ نے شام کے شمال مغربی علاقے میں واقع جیش التحریر کے اڈوں اور چیک پوائنٹس سے اس کے چالیس سے زیادہ ارکان کو اغوا کر لیا ہے اور ان کے ہتھیار بھی چرا کر لے گئے ہیں''۔

بیان میں النصرۃ محاذ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ جیش التحریر کے کمانڈر اور دوسرے تمام یرغمال جنگجوؤں کو رہا کردے۔اس گروپ نے دوسرے اسلامی گروپوں سے جہادیوں پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصد گاہ برائے انسانی حقوق نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ امریکا نے ماضی میں جیش التحریر کو اسلحہ مہیا کیا تھا اور وہ اس کے جنگجوؤں کو تنخواہیں بھی دیتا رہا ہے۔

النصرۃ محاذ کے جنگجو ماضی میں شمال مغربی صوبہ ادلب میں امریکا کے حمایت یافتہ باغی گروپوں کے ٹھکانے پر حملے کرتے رہے ہیں۔انھوں نے مارچ میں معرۃ النعمان شہر میں 13 ڈویژن کے ایک گودام کو لوٹ لیا تھا۔

صوبہ ادلب پر النصرۃ محاذ کی قیادت میں مختلف باغی گروپوں پر مشتمل اتحاد جیش الفتح کا کنٹرول ہے۔ سخت گیر جنگجو گروپ احرار الشام بھی اس اتحاد میں شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں