فیس بک "خوف ناک عفریت "ہے: اسرائیلی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر برائے داخلہ سیکورٹی نے ہفتے کے روز فیس بک اور اس کے بانی مارک زوکربرگ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف اشتعال انگیز مواد کو روکنے کے لیے مطلوبہ کوششیں نہیں کر رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سماجی رابطے کی یہ ویب سائٹ اسرائیلی پولیس کے کام کو "برباد" کر رہی ہے۔

اسرائیل ماضی میں بھی یہ کہہ چکا ہے کہ فیس بک ویب سائٹ کو حملوں کی حوصلہ افزائی کے واسطے استعمال کیا جا رہا ہے اور حکومت ایک قانون بنانے جارہی ہے جس کے تحت فیس بک ، یوٹیوب اور ٹوئیٹر وغیرہ جیسی ویب سائٹس کو اشتعال انگیز مواد اور پوسٹس ہٹانے پر مجبور کیا جا سکے گا۔

تاہم امن و امان کے امور سے متعلق چھوٹی کابینہ کے رکن جیلاد اردان کا حالیہ بیان خصوصی طور پر سخت ہے۔

اردان کے مطابق زوکربرگ فیس بک کی پالیسی کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے اسرائیل کے شہریوں پر زور دیا کہ وہ " ہر ممکن مقام پر زوکربرگ سے اُس پلیٹ فارم کی نگرانی کا مطالبہ کریں جس کے وہ بانی ہیں اور جس کے ذریعے وہ اربوں ڈالر کما رہے ہیں"۔

اسرائیل میں فیس بک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ادارہ اسرائیلی وزیر کے بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کرے گا۔

اسرائیلی چینل 2 کے ساتھ انٹرویو میں جیلاد اردان نے کہا کہ " فیس بک جس نے دنیا بھر میں ایک مثبت اور حیران کن انقلاب برپا کیا ، افسوس کی بات ہے کہ آج داعش اور دہشت گردی کی لہر کے اُٹھنے کے بعد اس نے ایک خوف ناک عفریت کی شکل اختیار کرلی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ فیس بک اسرائیلی پولیس کا کام سبوتاژ کررہی ہے اس لیے کہ جب پولیس (بالخوص یہودی آبادکاروں کے حوالے سے) ان سے رابطہ کرتی ہے تو فیس بک تعان نہیں کرتی"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں