.

کُردستان کو ایرانی دھمکی.. اربیل نے مسترد کر دی!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تہران نے عراقی کردستان کو دھمکی دی ہے کہ اگر اربیل حکومت نے ایرانی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کی مسلح کارروائیوں پر روک نہ لگائی تو اسے تباہ کن نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ دھمکی ایرانی پاسداران انقلاب کے نائب کمانڈر جنرل حسين سلامي کی زبانی سامنے آئی ہے۔ کردستان ڈیموکریٹک پارٹی ، ایرانی کردستان میں موجود پاسداران انقلاب کی فورسز کے خلاف جھڑپوں کے سلسلے میں عراقی کردستان سے اپنی کارروائیاں کرتی ہے۔

سلامی نے جمعے کے روز "يوم القدس" کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے عراقی کردستان سے مطالبہ کیا کہ وہ "مسلح دہشت گرد عناصر" کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے نہیں تو ایران خود یہ کام سرانجام دے گا۔

سلامی نے کہا کہ " ہم علاقے میں کٹھ پتلی تنظیموں اور شمالی عراق کے سیاسی ذمہ داروں کو خبردار کررہے ہیں کہ وہ اپنی پابندیوں کی پاسداری کریں اس لیے کہ ہم بلا امتیاز ہر اُس نقطے کو تباہ و برباد کردیں گے جہاں سے ہمارے نظام کے خلاف خطرات نکلیں گے"۔

کردستان نے ایرانی دھمکی مسترد کر دی

ایرانی عسکری ذمہ دار کی دھمکی کے جواب میں عراقی کردستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ " ہم ان دھمکیوں کو سختی سے مسترد کرتے ہیں جو جنرل سلامی کو زیب نہیں دیتیں۔ ہمارے نزدیک یہ عراقی کردستان کی حکومت اور ایران کے درمیان پرانے دوستانہ تعلقات کے لیے مناسب نہیں"۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے پاسداران انقلاب کی بری فوج کے کمانڈر محمد پاکپور نے عراقی کردستان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ "مسلح دہشت گردوں کو کسی بھی علاقے میں" نشانہ بنایا جائے گا۔

عراقی کردستان کا ردعمل کردستان کے وزیراعظم نیجیرفان بارزانی کی زبانی سامنے آیا ہے جنہوں نے ایرانی دھمکیوں پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔

"كردستان 24" ویب سائٹ کے مطابق بارزانی نے کچھ عرصہ قبل اربیل کا دورا کرنے والے ایک اعلی سطح کے ایرانی وفد کو آگاہ کیا تھا کہ وہ کردستان میں سرحدی دیہاتوں پر ایرانی توپ خانوں کی گولہ باری پر پریشانی محسوس کرتے ہیں۔

ایرانی کردوں کی پاسداران انقلاب کے خلاف جنگ

ایرانی پاسداران انقلاب کی فورسز کو سرحدی علاقوں اور ایران کے دو صوبوں مغربی آذربائیجان اور کردستان میں ، ایرانی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپوں کا سامنا ہے جن کی شدت میں کچھ عرصہ قبل اضافہ ہو گیا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے منگل 16 جون کو اعلان کیا تھا کہ اس نے ایران کے شمال مغربی علاقے اشنویہ میں جھڑپوں کے دوران ، ایرانی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے زیر انتظام پیش مرگہ فورسز کے 12 ارکان کو ہلاک کر دیا جب کہ پاسداران انقلاب کے 3 فوجی بھی مارے گئے۔

دوسری جانب کردستان پارٹی نے کردستان صوبے کے علاقے سردشت میں 18 جون تک جاری رہنے والے مقابلوں میں پاسداران انقلاب کے 15 ارکان کے ہلاک ہونے اور درجنوں کے زخمی ہوجانے کی تصدیق کی۔

یاد رہے کہ ایرانی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی نے 23 برس کے وقفے کے بعد پھر سے ایرانی حکومت کے خلاف مسلح کارروائیاں شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ اعلان 20 مارچ کو نوروز کے تہوار کے موقع پر کیا گیا۔

پارٹی کی قیادت مصطفی ہجری کے ہاتھ میں ہے جو" کانگریس آف نیشنلیٹیز فار آ فیڈرل ایران" کے بانی رکن بھی ہیں۔ کانگریس میں 14 کرد ، ترک ، آذر ، عرب ، بلوچی اور ترکمانی تنظیمیں شامل ہیں اور یہ تمام کرد جماعتوں کی مادر جماعت شمار کی جاتی ہے۔ اس کا قیام دوسری جنگ عظیم کے دوران 1946ء میں عمل میں آیا جس کے بعد اس کانگریس نے "جمہوریہ مھآباد" کے نام سے پہلی کرد جمہوریہ تشکیل دی۔