لباس اور زبان کے سبب امریکی پولیس کا اماراتی شہری پر دھاوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی ریاست اوہایو کے شہر ایون میں امریکی پولیس نے قومی لباس اور عربی زبان کی وجہ سے ایک اماراتی شہری کو پیٹ دیا۔

انسانی حقوق کے بہت سے کارکنان اور صحافیوں نے اس حملے کو "نسلی امتیاز" قرار دیا ہے۔ پولیس نے اماراتی شہری کو محض "داعش تنظیم کےحامی ہونے کے شبہے" زدوکوب کیا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ اماراتی کا لباس اور زبان ، اُس پر "دہشت گرد تنظیم کی حمایت" جیسا خطرناک ترین الزام عائد کرنے کے لیے کافی ہے۔ ساتھ ہی اس پر اس شدت کے ساتھ دھاوا بولا گیا جس کے فورا بعد وہ اپنے پاؤں پر کھڑا بھی نہ رہ سکا۔

واقعے کی زیرگردش وڈیو سے واضح ہوتا ہے کہ بنا کوئی سوال پوچھے اماراتی شہری کو کس طرح حراست میں لے کر زدوکوب کیا گیا۔

امریکی چینل 5 کے مطابق اماراتی شہری ایون شہر میں جس ہوٹل میں قیام پذیر تھا وہاں کی خاتون کلرک نے 911 کی ہنگامی خدمت کو کال کر کے آگاہ کیا کہ ہوٹل کی لابی میں ایک شخص ہے جو "مبینہ طور پر داعش کے ہمنواؤں" میں سے نظر آرہا ہے۔ رابطے کی وجہ یہ تھی کہ مذکورہ شخص اماراتی لباس میں تھا اور عربی میں بات چیت کر رہا تھا۔

سوشل میڈیا پر عرب اور امریکی حلقوں کی جانب سے امریکی پولیس کی کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ اس لیے کہ پولیس نے خاتون کلرک کی جانب سے مشتبہ قرار دیے جانے والے شخص سے بات چیت کیے بغیر ہی اس کو گرفتار اور زدوکوب کیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق اماراتی شہری کو نہ تو پولیس اور نہ ہی ہوٹل کی جانب سے ابھی تک کوئی معذرت پیش کی گئی۔

اماراتی شہری واقعے کے بعد ایک کلینک میں زیرعلاج ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پولیس نے مذکورہ اماراتی کو پہنچنے والی تکلیف کے بارے میں خود بھی کچھ پوچھا ؟ کیا امریکی پولیس سے اس حد تک ظلم اور زیادتی کے بارے میں سوال کیا گیا کہ وہ محض اس وجہ سے کسی بھی انسان کو گرفتار کرلے کہ وہ عربی میں بات کر رہا تھا اور اپنے عرب ملک کا قومی لباس پہنے ہوئے تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں