.

اسد رجیم میں 14 نئے وزراء کی شمولیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے صدر بشار الاسد نے اپنی کابینہ میں ردو بدل کیا ہے۔ نئی کابینہ میں کئی سابق وزراء اپنے کلیدی عہدوں پر فائز ہیں البتہ وزارت اطلاعات اور اقتصادیات سمیت 14 محکموں کے لیے نئے وزراء کا تقرر عمل میں لایا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق رواں سال اپریل میں پارلیمنٹ کے انتخابات اور 6 جون کو ان کی تقریب حلف برداری کی تقریب کے بعد 22 جون کو بشار الاسد نے ایک صدارتی حکم نامے کے تحت بجلی کے وزیر عماد خمیس کو وائل الحلقی کی جگہ نگراں حکومت کے قیام کا حکم دیا تھا۔

کابینہ میں وزیرخارجہ ولید المعلم نائب وزیراعظم کے عہدے پر بھی بدستور قائم ہیں۔ اس کے علاوہ سابقہ کابینہ میں بہ طور وزیر دفاع شامل ہونے والے العماد فہد الفریج اب بھی کابینہ میں اسی وزارت پر فائز ہیں۔ وزیر داخلہ، وزیر انصاف، اوقاف اور صدارتی امور کے وزیر کو بھی شامل نہیں کیا گیا۔

صدر اسد کی موجودہ کابینہ میں کل 26 وزراء ہیں۔ ان میں 14 نئے جب کہ 10 سابق کابینہ کا حصہ تھے۔ نئے وزراء میں اطلاعات ونشریات کے وزیر محمد رامز ترجمان شامل ہوئے ہیں۔ وہ اس سے قبل ریڈیو اینڈ ٹیلی ویژں کارپوریشن کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔

چار نئے وزراء مملکت کا تقرر عمل میں لایا گیا ہے۔ قومی مصالحت کے لیے علی حیدر اپنے عہدے پر اب بھی فائز ہیں۔ نئے وزراء کو تجارت، امور داخلہ، مواصلات، آبی وسائل، ٹرانسپورٹ، آباد کاری، اقتصادیات، مالیات،صنعت، تیل تجارت اور بیرون ملک تجارت جیسے محکمے سونپے گئے ہیں۔

موجود وزیر اقتصادیات ادیب میالہ ماضی میں شام کے مرکزی بنک کے گورنر رہ چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق شام میں 80 فی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسرکرنے پر مجبور ہے۔ گذشتہ پانچ سال سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں غربت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔