.

كويت: داعش کے 3 دہشت گردی کے منصوبے ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت کی وزارت داخلہ نے اتوار کی شام اعلان کیا کہ ملک کی سیکورٹی کو نشانہ بنانے کے مقصد سے تیار کیے گئے تین منصوبوں کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔ سرکاری نیوز ایجنسی "کونا" کے مطابق اس سلسلے میں کویت اور اس کے بیرون 3 پیش اقدامی کارروائیوں کے ذریعے داعش تنظیم سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد عناصر کو بھی حراست میں لیا گیا۔

وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق پہلے کیس میں کویت کی شہریت رکھنے والے 18 سالہ دہشت گرد ملزم طلال نایف رجا کو گرفتار کیا گیا۔ ملزم نے حولی کے علاقے میں شیعوں کی ایک مسجد میں دھماکے اور وزارت داخلہ کی ایک تنصیب کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ ملزم کی جانب سے داعش تنظیم کی بیعت کرنے اور بیرون ملک تنظیم کے ایک کمانڈر کی جانب سے ہدایات موصول ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

ایک دوسرے کیس میں سیکورٹی ادارے غیرمسبوق کامیابی حاصل کرتے ہوئے بیرون ملک سے 28 سالہ کویتی علی محمد عمر اور اس کی 52 سالہ ماں حصہ عبداللہ محمد کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کر کے کویت لانے میں کامیاب ہوگئے۔ وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق بیٹے اور ماں دونوں نے داعش تنظیم میں شمولیت کا اعتراف کیا ہے۔ ملزمہ نے اپنے چھوٹے بیٹے عبداللہ محمد عمر (پیدائش 1991) کو بھی داعش میں شامل ہونے پر اکسانے کا اقرار کیا۔ وہ عراق میں دہشت گرد کارروائی کے دوران مارا گیا تھا۔

عبداللہ کی موت کے بعد اس کے بھائی علی نے برطانیہ میں اپنی تعلیم کا سلسلہ منقطع کیا جہاں وہ پیٹرولیئم انجینئرنگ کے شعبے میں زیرتعلیم تھا۔ اس نے داعش میں شامل ہو کر اپنی ماں کے ساتھ شام کے شہر الرقہ کا رخ کیا۔ وہاں پہنچ کر ملزمہ (ماں) نے دہشت گرد جنگجوؤں کی بیویوں اور بچوں کی تدریس اور ان کی ذہنی اور فکری تربیت کے حوالے سے کام کیا۔ دونوں ملزمان نے متعدد دہشت گرد کارروائیوں کے لیے لاجسٹک سپورٹ پیش کرنے کا تفصیلی اعتراف کیا۔

تیسرے کیس میں وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ سیکورٹی کے خصوصی اداروں نے داعش تنظیم سے تعلق رکھنے والے ایک دہشت گرد گروہ کو حراست میں لے لیا۔ گروہ میں وزارت داخلہ کے دو ملازمین 22 سالہ کویتی مبارک فہد اور 24 سالہ کویتی عبداللہ مبارک کے علاوہ ایک خلیجی اور ایک ایشیائی شہری شامل ہیں۔

سیکورٹی سروے کے دوران انکشاف ہوا کہ ملزم مبارک فہد نے عبداللہ مبارک کے پاس ایک فولادی صندوق چھپا رکھا تھا۔ سیکورٹی اداروں کے مطابق صندوق سے کلاشنکوفیں ، گولیاں اور گولہ بارود اور داعش تنظیم کا پرچم برآمد ہوا۔ گروہ میں شامل تین ملزمان نے اس کیس میں اپنے شریک ہونے کا تفصیلی اعتراف کیا ہے۔ وزارت داخلہ کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ گروہ میں شامل خلیجی ملزم ابھی تک مفرور اور نظروں سے اوجھل ہے۔