.

معزول یمنی صدر اور حوثیوں کے درمیان پکتا لاوا !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں معزول صدر صالح اور ان کے حلیف حوثی باغیوں کے درمیان تعلقات شدید ابتری کا شکار ہیں۔ دارالحکومت صنعاء میں باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ حوثی جماعت نے معزول صدر کو خبردار کیا ہے کہ وہ 17 جولائی کو اپنے اقتدار سنبھالنے کے 38 سال مکمل ہونے پر کسی قسم کی یادگاری تقریب کا انعقاد نہ کریں۔

یہ انتباہ اُن معلومات کے افشا ہونے کے بعد سامنے آیا ہے جن کے مطابق علی عبداللہ صالح اور ان کی جماعت اپنی طاقت کے مظاہرے کے لیے 17 جولائی کو صنعاء میں ایک بڑا عوامی جلسہ منعقد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

یمن میں ہر سال معزول صدر علی عبداللہ صالح کے اقتدار سنبھالنے کے دن کو منانے کے لیے مخلتف سطح پر پروگراموں اور تقاریب کا انعقاد کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم رواں سال صورت حال مختلف ہے۔ معزول صدر بین الاقوامی سطح پر تعاقب کا اور علاقائی سطح پر محاصرے کی زد میں ہیں۔ یہاں تک کہ آئینی حکومت کا تختہ الٹنے میں شریک مقامی حلیفوں نے بھی صدر صالح کا انکار شروع کردیا ہے۔

حوثیوں اور معزول صدر کے درمیان اختلاف کی خلیج میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حوثیوں کے مطابق ملک میں انقلابی کمیٹیوں کی صورت میں نئی اتھارٹی موجود ہے اور معزول صدر کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ ایسا نظر آتا ہے کہ فریقین کے درمیان تعلقات میں دراڑوں کا آغاز کچھ عرصہ قبل ہوا۔

حوثیوں نے علی عبداللہ صالح کی سیاسی جماعت "پیپلز کانگریس پارٹی" کے ارکان کو عمومی ملازمتوں سے ہٹانے پر کام کیا اور اس کے بعد مذکورہ افرد کی جگہ حوثی عناصر کو لا کر بٹھا دیا۔ اس کے نتیجے میں کانگریس پارٹی کے متعدد ارکان جماعت چھوڑ کر حوثیوں میں شامل ہوگئے۔

کویت مشاورت کے دوران باغیوں کے وفد میں شامل معزول صدر صالح کے نمائندے دیوار کے ساتھ لگے نظر آئے۔ مذاکرات کے سیشنوں میں ان کے خلاف ایک طرح کا کریک ڈاؤن روا رکھا گیا۔ مذاکرات میں شریک ذرائع کے مطابق حوثیوں کے نمائندے محمد عبدالسلام نے معزول صدر کی جماعت کے سکریٹری جنرل عارف الزوکا کے بارے میں بات چیت کو منع کیا ہوا تھا۔ وہ طویل عرصے تک وزیر خارجہ رہنے والے ڈاکٹر قربی کو بھی بات کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ جہاں تک معزول صدر صالح کے گھرانے سے قریب سمجھے جانے والے یحیی دوید کا تعلق ہے تو وہ مکمل طور پر غائب رہے۔

مصدقہ اطلاعات کے مطابق معزول صدر کی جماعت کے معاون سکریٹری جنرل یاسر العواضی کویت میں ہونے والے مشاورتی اجلاسوں سے مسلسل 5 روز تک غائب رہے۔ غیر حاضری کی وجہ باغیوں کے وفد کی جانب سے العواضی اور ان کی جماعت کے ساتھیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کی صورت حال تھی۔

ماہرین کے نزدیک یہ اختلافات ممکنہ طور پر فریقین کے انقلاب پر اثرانداز نہیں ہوں گے۔ حوثیوں کی جانب سے تمام تر منفی اقدامات کے باوجود بھی انہیں "پیپلز کانگریس" کی ضرورت ہے۔ اگرچہ کانگریس پارٹی کے ارکان کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔