.

عراقی وزیر داخلہ بغداد میں تباہ کن بم دھماکوں کے بعد مستعفی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیر داخلہ محمد الغبان نے دارالحکومت بغداد میں حالیہ تباہ کن بم دھماکوں کے بعد وزیراعظم حیدر العبادی کو اپنا استعفیٰ پیش کردیا ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ ان کے نائب اب ان کی جگہ ذمے داریاں انجام دیں گے۔

محمد غبان نے بغداد میں منگل کے روز ایک میڈیا کانفرنس کے دوران مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے لیکن وزیراعظم حیدرالعبادی نے دم تحریر ان کے استعفے کو منظور نہیں کیا ہے اور نہ ان کے دفتر کی جانب سے اس کے حوالے سے کوئی بیان جاری کیا گیا ہے۔

بغداد کے وسطی علاقے کرادہ میں جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب ایک شاپنگ مال کے باہر خودکش کار بم دھماکے میں 175 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ داعش نے اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔اس بم دھماکے کے خلاف عراقی شہریوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور وزیر اعظم حیدرالعبادی شہریوں کے غیظ وغضب کا نشانہ بن گئے تھے اور مشتعل ہجوم نے علاقے کے دورے کے موقع پران کے قافلے پر پتھراؤ کیا تھا،جوتے اور بوتلیں پھینکی تھیں اور ان کے خلاف سخت نعرے بازی کی تھی۔

داعش نے یہ تباہ کم حملہ ایسے وقت میں کیا تھا جب انھیں فلوجہ شہر میں عراقی سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے،لیکن عراقی فورسز کی فاتحانہ پیش قدمی کے باوجود داعش کے جنگجو تباہ کن حملوں کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

محمد غبان نے گذشتہ ماہ رائٹرز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ بغداد میں داعش کے بم دھماکے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک عراق کے سکیورٹی اداروں میں موجود بدنظمی کو ختم نہیں کردیا جاتا۔

انھوں نے تب کہا تھا کہ بطور وزیر داخلہ ان کا سکیورٹی فورسز پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔سکیورٹی فورسز کے یونٹس انسداد دہشت گردی کے ذمے دار دو اداروں،وزارت دفاع کے تحت دو نظامتوں اور ریجنل سکیورٹی کمانڈز کو جواب دہ ہیں اور یہ انتظام ان کی وزارت کی انسداد دہشت گردی کے لیے کارکردگی پر اثر انداز ہورہا ہے۔