.

منبج میں شامی کردفورسز پر داعش کا دوسرا جوابی حملہ بھی پسپا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی حمایت یافتہ شامی کرد فورسز نے گذشتہ چوبیس گھںٹے کے دوران شمال مغربی شہر منبج میں داعش کا دوسرا جوابی حملہ پسپا کردیا ہے۔

منبج میں شامی عربوں اور کردوں پر مشتمل ڈیموکریٹک فورسز ( ایس ڈی ایف) نے گذشتہ ماہ منبج پر قبضے کے لیے داعش کے خلاف یلغار کی تھی۔انھیں امریکا کی قیادت میں اتحاد کی فضائی فورسز کی مدد بھی حاصل ہے۔منبج میں لڑائی کے آغاز کے بعد سے کم سے کم تیرہ ہزار شہری بے گھر ہوچکے ہیں۔

عرب اور کرد جنگجوؤں نے منبج کا چاروں اطراف سے محاصرہ کررکھا ہے جبکہ داعش کے جنگجو ان کا محاصرہ ختم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔انھوں نے ہفتے کے روز تین اطراف سے ایس ڈی ایف پر جوابی حملہ کیا تھا۔برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کے مطابق داعش نے اتوار کی شب اور سوموار کی صبح دو اور حملے کیے تھے لیکن ایس ڈی ایف نے یہ دونوں حملے بھی پسپا کردیے ہیں۔

رصدگاہ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ ''داعش کے جنگجوؤں پر امریکی اتحادیوں نے دسیوں فضائی حملے کیے ہیں جس کے وجہ سے وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگئے ہیں''۔انھوں نے مزید بتایا ہے کہ ایس ڈی ایف نے گذشتہ دس روز میں منبج میں کوئی پیش رفت نہیں کی ہے۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ داعش نے شہر کی عمارتوں میں بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں۔

منبج ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع شامی قصبے جرابلس سے داعش کے صدر مقام الرقہ کی جانب جانے والی اہم شاہراہ پر واقع ہے اور اس کی داعش کے لیے بڑی تزویراتی اہمیت ہے۔اس شہر میں شکست کی صورت میں داعش کے شام کے شمال مغربی علاقوں سے پاؤں اکھڑ جائیں گے۔اس لیے وہ جان توڑ کر اس کے دفاع کی کوشش کررہے ہیں۔

داعش کا اب بھی ترکی کی سرحد کے ساتھ واقع علاقے میں متعدد ذیلی سڑکوں پر کنٹرول ہے لیکن یہ زیادہ دشوار گذار ہیں۔ امریکا کے علاوہ فرانس کی خصوصی فورسز کے دستے بھی عرب اور کرد جنگجوؤں کی داعش کے خلاف جنگ میں فوجی رہ نمائی کرتے رہے ہیں۔

ایس ڈی ایف نے 31 مئی کو منبج پر چڑھائی کے بعد متعدد نواحی دیہات پر قبضہ کر لیا تھا۔اس دوران ہزاروں شہری جانیں بچا کر محفوظ مقامات کی جانب چلے گئے ہیں۔شہر میں لڑائی کے آغاز کے بعد سے اقوام متحدہ کے انسانی امور کے ادارے نے یہاں سے بے گھر ہونے والے شامیوں کے اعداد وشمار جاری نہیں کیے ہیں۔ البتہ اس نے جون کے آخر میں شہر میں قریباً ساٹھ ہزار افراد کے موجود ہونے کی اطلاع دی تھی۔