ایران: عید سے قبل تہران میں سنیوں کی واحد جائے نماز پر چھاپہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران میں سیکورٹی فورسز نے منگل کی شام تہران کے علاقے "پونک" میں واقع ملک میں سنیوں کی واحد جائے نماز پر چھاپہ مار کر ، عید سے پہلے اہل سنت شہریوں کو رمضان کے آخری روز نماز اور عبادت سے روک دیا۔

یاد رہے کہ "پونک" کی یہ جائے نماز ایک چھوٹی سی عمارت ہے جو ایرانی دارالحکومت تہران میں اہل سنت کے لیے باجماعت نماز کا واحد مقام شمار کی جاتی ہے۔ جولائی 2015 میں تہران کی بلدیہ نے پولیس اور سیکورٹی فورسز کی معاونت کے ساتھ اس جائے نماز کو ڈھادیا تھا۔ تاہم بعض نمازیوں نے اس کے کچھ حصے کی دوبارہ تجدید کر دی تھی جو اب نماز کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

"بلوچ کارکنان" ویب سائٹ نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ داخلہ سیکورٹی فورسز جن کو پولیس کی سپورٹ بھی حاصل تھی ، نمازیوں کو نماز کی جگہ داخل ہونے سے روک دیا اور زبردستی داخلے کی کوشش کرنے والے متعدد افراد کو گرفتار کر لیا۔ بقیہ نمازیوں کے احتجاج کے نتیجے میں کچھ دیر بعد گرفتار شدگان کو رہا کر دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق سیکورٹی فورسز اور پولیس کے اہل کاروں نے نمازیوں کے ساتھ بُرا رویہ اختیار کیا اور کسی بھی عدالتی وارنٹ اور محاصرے کی وجہ کے بغیر ہی جائے نماز پر دھاوا بول دیا۔

عینی شاہدین کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ سیکورٹی فورسز اس مقام پر عیدالفطر کی نماز ہونے سے روکنا چاہتی ہیں تاکہ نماز کی ادائیگی کے لیے ہزاروں سنیوں کو ایک جگہ جمع نہ ہونے دیا جائے۔

ایرانی دارالحکومت کے مختلف علاقوں سے دس لاکھ سے زیادہ سنی نماز کی ادائیگی اور عبادت کے لیے اس جائے نماز پر آتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایرانی حکام کی جانب سے عائد پابندیوں کے سبب تہران میں سنیوں کی کوئی مسجد نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں