جدّہ شہر ۔۔۔ ایک پاکستانی کی شجاعت اور دوسرے کی خیانت کا گواہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرمان خان اور عبداللہ خان دونوں ہی پاکستانی شہریت کے حامل تھے تاہم دونوں کے درمیان قربانی اور غداری کے حوالے سے ایک بڑا فاصلہ پایا جاتا ہے۔ ان میں ایک نے اپنی جان پر کھیل کر 14 افراد کو موت کے منہ میں جانے سے بچایا جب کہ دوسرے نے بے قصور لوگوں کی جان لینے کی کوشش کی۔

فرمان خان نے اپنا نام سنہرے الفاظ سے درج کرایا اور جدہ میں اس کے نام سے ایک سڑک بھی موسوم کی گئی ہے۔ یہ اقدام فرمان خان کی بہادری اور قربانی کو خراج تحسین پیش کرنے کے سلسلے میں عمل میں آیا۔ پاکستان کے اس قابلِ فخر سپوت نے 2009 میں جدہ میں سیلابی ریلے کے اندر سے 14 افراد کو نکال کر بچایا تھا جب کہ 15 ویں شخص کو بچانے کے لیے جاتے ہوئے فرمان زندگی کی بازی ہار بیٹھا۔ سعودی شہریوں کی جانب سے فرمان کی قربانی کو بھرپور طور پر سراہا گیا۔

دوسری جانب پاکستان کے ہی شہری عبداللہ گلزار خان نے بے قصور لوگوں کو ہلاک کرنے کی کوشش میں جدہ شہر کی ایک مسجد کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

سعودی عرب میں فرمان خان کی قربانی کو تو ہر سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی مگر دہشت گرد عبداللہ خان کے حوالے سے یکسر مختلف موقف اپنایا گیا۔

اس دہشت گرد کارروائی کو اُس قوم کے ساتھ عمومی طور نہیں جوڑا جاسکتا جس کے صرف ایک ہی فرزند نے اس قبیح عمل کا ارتکاب کیا ہو۔

اگرچہ عبداللہ خان نے اپنی بیوی اور والد کے ساتھ اہلیان جدہ کے درمیان 12 سال گزارے تھے اس کے باوجود عبداللہ نے خود کو داعش کے ہاتھوں فروخت کر ڈالا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں