خامنہ ای کے ہاتھوں ایرانی مسلح افواج کی قیادت تبدیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران میں مرشد اعلی علی خامنہ ای نئی تبدیلیاں کرتے ہوئے ایرانی مسلح افواج کی قیادت کے ڈھانچے کی تشکیل نو کو عمل میں لائے ہیں۔ یہ اقدام مسلح افواج کے سربراہ کی برطرفی کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔ مبصرین کے خیال میں یہ کارروائی اصلاح پسندوں کے قریب سمجھی جانے والی عسکری قیادت کو بے دخل کر کے ، پاسداران انقلاب کی قیادت کو اسٹاف کمیٹی کے اعلی ترین منصبوں پر مقرر کرنے کی کڑی ہے۔

خامنہ ای نے منگل کے روز جنرل عبدالرحیم موسوی کو ایرانی مسلح افواج کے نئے کمانڈر انچیف جنرل محمد باقری کا معاون مقرر کیا۔ باقری کو ایرانی صدر حسن روحانی کے قریب شمار کیے جانے والے جنرل حسن فیروز آبادی کی برطرفی کے بعد یہ منصب سونپا گیا تھا۔

موسوی کا شمار ایرانی فوج کے سینئر قائدین میں ہوتا ہے اور وہ توپ خانے کے حوالے سے خصوصی مہارت رکھتے ہیں۔ گزشتہ صدی میں 1980 سے 1988 کے دوران ایران عراق جنگ کے محاذوں پر موسوی نے قائدانہ کردار ادا کیا تھا۔

قُم شہر سے تعلق رکھنے والے 56 سالہ موسوی نے نیشنل ڈیفنس یونی ورسٹی سے اسٹریٹجک ڈیفنس اسٹڈیز میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے فوج میں مختلف منصبوں پر ذمہ داریاں انجام دیں جن میں 2005 سے فوج کے نائب جنرل کمانڈر اور ایرانی فوج کے اسٹریٹجک اسٹڈیز سینٹر کے سربراہ کے عہدے شامل ہیں۔

خامنہ ای کی جانب سے کی گئی تبدیلیوں میں بریگیڈیئر علی عبداللہی کا اسٹاف کمیٹی کے کوآرڈی نیٹر کے معاون کے طور پر تقرر شامل ہے۔ وہ وزیر داخلہ کے معاون برائے سیکورٹی امور اور مسلح افواج کی جنرل اسٹاف کمیٹی کے معاون برائے لاجسٹک امور کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔

اس کے علاوہ جنرل غلام علی رشید کو "خاتم الانبياء" مرکزی ہیڈکوارٹر کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے جس کے پاس ایرانی مسلح افواج کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور اس کی کوآرڈی نیشن کی ذمہ داری ہے۔

جنرل رشید اس سے قبل ایرانی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کے نائب بھی رہ چکے ہیں۔ یہ وہ ہی منصب ہے جو جنرل عبدالرحیم موسوی نے سنبھالا ہے۔

ایرانی مسلح افواج کے نئے کمانڈر انچیف جنرل محمد باقری نے منگل کے روز سرکاری طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ "فارس" نیوز ایجنسی کے مطابق باقری کا کہنا ہے کہ اُن کے آئندہ منصوبے "سیکورٹی، دفاعی، پاپولر موبیلائزیشن ، خطرات کا سامنا کرنے اور خطے میں کمزوروں کی مدد کرنے کی صلاحیتوں کا ارتقاء ثابت ہوں گے"۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ خطے میں ایرانی فوجی مداخلت اور "کمزوروں کی مدد" کے نام پر دہشت گرد گروپوں اور مسلح ملیشیاؤں کی سپورٹ کا سلسلہ جاری رہے گا۔

مبصرین کے مطابق خامنہ ای کی جانب سے نئی تبدیلیاں ، فوج کی قیادت پر ایرانی مرشد اعلی کے عدم اعتماد کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ایرانی مسلح افواج کی قیادت اپنے ہمنوا پاسداران انقلاب کے قائدین کے حوالے کرنے کی جانب قدم ہے۔ یہ سب کچھ ایسے وقت میں کیا جارہا ہے جب کہ خطے میں ایرانی مداخلت اپنے عروج پر ہے۔ اسی طرح اندرونی شورشوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے ، بالخصوص ظالمانہ سلوک کا شکار قومیتوں کے علاقوں میں جو سرحدی صوبوں مثلا کردستان ، بلوچستان اور عربستان (اہواز) میں بستی ہیں۔ ان علاقوں میں ایذا رسانی اور امتیاز سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لیے عوامی مطالبے زور پکڑتے جارہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں