شامی فوج اور باغیوں میں عیدالفطر پر 72 گھنٹے کے لیے جنگ بندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شامی فوج نے عیدالفطر کے موقع پر ملک بھر میں بدھ کی دوپہر سے 72 گھنٹے کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔باغی گروپوں پر مشتمل ایک اتحاد نے اس جنگ بندی سے اتفاق کیا ہے لیکن اس کے باوجود ملک کے بعض علاقوں میں لڑائی جاری ہے اور باغی گروپوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے بھی کیے گئے ہیں۔

شام کے سرکاری میڈیا کی جانب سے شائع کردہ صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے ایک بیان کے مطابق ''بدھ 6 جولائی کو دوپہر ایک بجے (گرینیچ معیاری وقت 1000جی ایم ٹی) سے شامی عرب جمہوریہ کے تمام علاقوں میں خاموشی (جنگ بندی) کا اطلاق ہوگا۔یہ جنگ بندی 8 جولائی کو 2400 جی ایم ٹی تک جاری رہے گی''۔

اس کے چند گھنٹے کے بعد باغی گروپوں پر مشتمل جیش الحر اتحاد نے عیدالفطر کے تین ایام میں اس جنگ بندی کے احترام کا اعلان کیا ہے۔شامی حزب اختلاف کے سابق اعلیٰ مذاکرات کار اور ایک طاقتور باغی گروپ جیش الاسلام کے رہ نما محمد علوش نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر سرکاری فوج اس کی پاسداری کرے گی تو وہ بھی اس پابندی کریں گے۔

انھوں نے مزید کہا ہے کہ ''حکومت نے ابھی تک اس جنگ بندی کی پاسداری نہیں کی ہے۔اس نے آج مختلف علاقوں میں متعدد حملے کیے ہیں''۔جیش الاسلام کے ترجمان اسلام علوش اور جنگ کی نگرانی کرنے والے ایک مانیٹر گروپ کا کہنا ہے کہ برسرزمین کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا ہے اور شامی حکومت نے بین الاقوامی دباؤ سے بچنے کے لیے اس جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ حکومت اور اس کی اتحادی فورسز نے مشرقی الغوطہ میں واقع قصبے مائدہ کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے اور وہاں لڑائی جاری ہے۔شام کے سرکاری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ فوج اور اس کے اتحادیوں نے علاقے میں ''دہشت گردوں'' کے مقابلے میں پیش قدمی کی ہے۔شامی حکومت اور اس کے تحت سرکاری میڈیا تمام باغی گروپوں کو دہشت گرد قرار دیتا چلا آرہا ہے۔

رصدگاہ نے شمالی شہر حلب کے نواح میں باغیوں اور سرکاری فوج کی جانب سے گولہ باری کی بھی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ حلب کے شمال میں واقع قصبوں پر فضائی حملے کیے گئے ہیں۔سرکاری میڈیا نے ملک بھر میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف فوج کی کارروائیاں جاری رکھنے کی اطلاع دی ہے۔

درایں اثناء امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے شامی فوج کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اس میں توسیع اور ہر طرح کی جنگی کارروائیاں رکوانے کے لیے مزید بات چیت جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں