عراقی وزیر اعظم نے وزیرداخلہ کا استعفیٰ منظور کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے وزیر داخلہ محمد الغبان کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔ وہ دارالحکومت بغداد میں حالیہ تباہ کن بم دھماکوں کے بعد منگل کے روز مستعفی ہوگئے تھے اور انھوں نے اپنی ذمے داریاں اپنے نائب کو سونپ دی تھیں۔

وزیراعظم کے دفتر کے ایک عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بدھ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ حیدر العبادی نے استعفیٰ تو منظور کر لیا ہے مگر عراقی میڈیا کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس سلسلے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے۔

محمد الغبان نے عراق کے موجودہ سکیورٹی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ناکام ہوچکا ہے اور وہ اس کے مضمرات کی ذمے داری ہرگز بھی قبول کرنے کو تیار نہیں۔انھوں نے اس طرح کی سلسلہ وار تبدیلیوں کا مطالبہ کیا تھا جن کے نتیجے میں وزارت کے اختیارات میں اضافہ ہو۔

انھوں نے گذشتہ ماہ رائٹرز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ بغداد میں داعش کے بم دھماکے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک عراق کے سکیورٹی اداروں میں موجود بدنظمی کو ختم نہیں کردیا جاتا۔

انھوں نے تب کہا تھا کہ بطور وزیر داخلہ ان کا سکیورٹی فورسز پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔سکیورٹی فورسز کے یونٹس انسداد دہشت گردی کے ذمے دار دو اداروں،وزارت دفاع کے تحت دو نظامتوں اور ریجنل سکیورٹی کمانڈز کو جواب دہ ہیں اور یہ انتظام ان کی وزارت کی انسداد دہشت گردی کے لیے کارکردگی پر اثر انداز ہورہا ہے۔

بغداد کے وسطی علاقے کرادہ میں جمعہ اور ہفتے کی درمیانی شب ایک شاپنگ مال کے باہر خودکش کار بم دھماکے میں 175 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ داعش نے اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

اس بم دھماکے کے خلاف عراقی شہریوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور وزیر اعظم حیدرالعبادی شہریوں کے غیظ وغضب کا نشانہ بن گئے تھے اور مشتعل ہجوم نے علاقے کے دورے کے موقع پران کے قافلے پر پتھراؤ کیا تھا،جوتے اور بوتلیں پھینکی تھیں اور ان کے خلاف سخت نعرے بازی کی تھی۔

داعش نے یہ تباہ کن حملہ ایسے وقت میں کیا تھا جب انھیں فلوجہ شہر میں عراقی سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے،لیکن عراقی فورسز کی فاتحانہ پیش قدمی کے باوجود داعش کے جنگجو تباہ کن حملوں کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں