شام : عیدالفطر کے دوسرے روز جنگ بندی ٹوٹ گئی ، لڑائی جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام میں سرکاری فوج اور باغیوں کے درمیان عیدالفطر کے موقع پر 72 گھنٹے کے لیے ہونے والی جنگ بندی دوسرے روز ہی ٹوٹ گئی ہے اور سرکاری فوج نے شمالی صوبے حلب میں باغیوں کے ایک اہم سپلائی روٹ پر حملہ کیا ہے اور اس کی باغیوں کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔

شامی فوج نے عیدالفطر کے موقع پر ملک بھر میں بدھ کی دوپہر سے 72 گھنٹے کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اورباغی گروپوں پر مشتمل ایک اتحاد نے اس جنگ بندی سے اتفاق کیا تھا۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ باغیوں کی حلب میں سرکاری فوج کے ساتھ نئی جھڑپیں ہوئی ہیں اور انھوں نے کاسٹیلو روڈ پر سرکاری فوج کا ایک حملہ پسپا کردیا ہے۔اسی شاہراہ کے ذریعے حلب شہر میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں تک سامان رسد پہنچایا جاتا ہے۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کے مطابق باغیوں کی جانب سے حکومت کے زیر قبضہ ایک علاقے پر گولہ باری سے تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا نے بھی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی اطلاع دی ہے اور تمام فریقوں پر زوردیا ہے کہ وہ جنگ بندی کی پاسداری کریں۔

حلب سے تعلق رکھنے والے ایک باغی گروپ فاستقیم کے رہ نما زکریا ملہفجی نے کہا ہے کہ ''اس وقت لڑائی کی وجہ سے کوئی بھی شخص حلب کے اندر اور وہاں سے باہر نہیں آسکتا ہے''۔

رصدگاہ کے مطابق صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز نے حلب کے شمال مغرب میں واقع الملاح فارمز کی جانب پیش قدمی کی ہے اور وہ کاسٹیلو روڈ سے صرف ایک کلومیٹر دور رہ گئے ہیں۔

شامی فضائیہ اور روس کے لڑاکا طیاروں نے حالیہ ہفتوں کے دوران کاسٹیلو روڈ پر تباہ کن بمباری کی تھی اور شامی فوج نے توپ خانے سے بھی گولہ باری کی تھی جس کی وجہ سے یہ شاہراہ بند ہوگئی تھی لیکن شامی فوج کی آج کی پیش قدمی کے بعد اس شاہراہ پر ہر طرح کی نقل وحرکت محدود ہو کررہ گئی ہے اور یہ ایک طرح سے کٹ گئی ہے۔

باغیوں کے ایک اور عہدے دار کا کہنا ہے کہ تمام دھڑوں نے شاہراہ کے دفاع اور شامی فوج کی پیش قدمی روکنے کے لیے کمک بھیجی ہے اور وہ شامی فوج کے زیرقبضہ آنے والی چوکیوں کی واپسی کے لیے کوشاں ہیں۔شامی فوج نے رات اس اہم شاہراہ پر تباہ کن بمباری کی تھی۔ رصدگاہ کے مطابق اس وقت حلب میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں ڈھائی سے تین لاکھ تک افراد رہ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں