.

عراقی فوج کا موصل کے جنوب میں اہم فضائی اڈے پر قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فوج نے شمال شہر موصل کے جنوب میں واقع ایک اہم فضائی اڈے کو داعش کے قبضے سے آزاد کرا لیا ہے اور اس کو کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔

صوبہ نینویٰ کے جلا وطن گورنر نوفل العقوب نے ہفتے کے روز عراق کے ٹیلی ویژن چینل السمیریا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے القیارہ ائیربیس کو واگزار کرانے کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ اب پورے نینویٰ کو آزاد کرانے کے لیے فتح قریب ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم عراقی وزیر اعظم حیدرالعبادی،تمام عراقیوں اور خاص طور پر نینویٰ کے عوام کو ایک اچھی خبر سنانا چاہتے ہیں اور وہ یہ کہ القیارہ کو واگزار کرا لیا گیا ہے۔وہاں سے داعش کے جنگجو کسی لڑائی کے بغیر اجتماعی طور پر پسپا ہوگئے ہیں۔اس سے عراقی فورسز کو موصل میں داعش کے خلاف کارروائی میں تقویت ملے گی۔

عراقی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں نے گذشتہ ماہ کے آخر میں دارالحکومت بغداد کے مغرب میں واقع شہر فلوجہ کو کئی روز کی لڑائی کے بعد داعش کے قبضے سے آزاد کرالیا ہے۔داعش نے اس شہر پر قریباً دوسال تک قبضہ کیے رکھا تھا۔اب عراقی حکومت ملک میں داعش کے آخری مضبوط گڑھ موصل کو آزاد کرانے پیش قدمی کی تیاریاں کررہی ہے۔

اس خبر کے منظرعام پر آنے سے قبل داعش نے بغداد کے علاقے الکرادہ میں گذشتہ ہفتے تباہ کن خودکش بم دھماکے کی ذمے داری قبول کی ہے۔اس بم دھماکے میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبی لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک مرنے والوں کی تعداد 292 ہو چکی ہے۔ مارچ 2003ء میں امریکا کی قیادت میں اتحاد کی فوجوں کی عراق پر چڑھائی کے بعد سے یہ سب سے تباہ کن بم دھماکا ہے۔

وزیراعظم حیدرالعبادی نے اس بم حملے کو فلوجہ میں عراقی فورسز کی عظیم فتح کا ردعمل قراردیا ہے۔ان کے بہ قول اس فتح پر دنیا حیران رہ گئی تھی۔