عراقی وزیر اعظم نے سکیورٹی سربراہ برطرف کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق میں گزشتہ شب ایک شیعہ مزار پر دہشت گردانہ حملے کے بعد وزیر اعظم حیدر العبادی نے ملکی سکیورٹی چیف کو برطرف کر دیا ہے۔ اوائل ہفتہ عراق میں ہونے والے بم دھماکوں میں کم سے کم 292 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دارالحکومت بغداد سے اسّی کلومیٹر شمال کی جانب واقع شہر بلد میں ایک شیعہ مزار اور ایک قریبی مارکیٹ پر کیے جانے والے اس حملے میں 37 افراد ہلاک جبکہ 62 دیگر زخمی ہوئے۔ اس حملے کی ذمہ داری بھی دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے قبول کر لی ہے۔

بغداد میں رواں ہفتے کے اوائل میں ہونے والے حملوں میں تقریباً تین سو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ سوشل میڈیا پر ایک بیان میں مزید تفصیلات بتائے بغیر کہا گیا ہے کہ "کئی انٹیلیجنس اور سکیورٹی اہلکاروں کو بھی برطرف کر دیا گیا ہے۔"

گزشتہ ہفتے ہونے والے بم دھماکوں کے بعد عراقی وزیر داخلہ محمد الغبان نے ازخود اپنے عہدے سے یہ کہتے ہوئے استعفی دے دیا تھا کہ وہ یہ اقدام امن وامان قائم کرنے میں ناکامی اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان کوارڈی نیشن کی کمی کے باعث دے رہے ہیں۔

عراق کے سیکیورٹی چیف نے گزشتہ مہینے بغداد میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے کچلنے سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد امن وامان کی صورتحال مخدوش ہوتی گئی اور اس کا منطقی نتیجہ اعلی سیکیورٹی قیادت کی برطرفی کی شکل میں نکلا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں