.

عبدالملک الحوثی بیٹے کو جانشیں بنانے کے لیے مصروف عمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی ذرائع نے بتایا ہے کہ حوثی باغیوں کا سرغنہ عبدالملک الحوثی اپنے بیٹے جبریل کو اپنی جانشینی کے لیے تیار کررہا ہے ، اس طرح عبدالملک نے اپنے بھائیوں اور ان کے بیٹوں کا راستہ روک دیا ہے۔ ذرائع نے واضح کیا کہ باغیوں کے سرغنے کا سب سے بڑا بیٹا یحیی الحوثی اور اسی طرح تحریک کے بانی حسین بدرالدین الحوثی کے تمام بیٹے نیم نظربند ہو کر رہ گئے ہیں۔ عبدالملک الحوثی کی ہدایات پر ان لوگوں کی نقل و حرکت انتہائی محدود یا مفلوج ہونے کے قریب ہوگئی ہے۔

ذرائع نے انکشاف کیا کہ جبریل نے ایران میں پاسداران انقلاب کے ہاتھوں بھرپور تربیت حاصل کر رکھی ہے۔ اس کے علاوہ لبنانی "حزب اللہ" نے بھی اس کو عسکری اور نظریاتی طور پر تیار کرنے میں حصہ لیا ہے۔ خیال کیا جارہا ہے کہ وہ بیروت کے جنوبی علاقے ضاحیہ میں حزب اللہ کے خصوصی پہرے کے ساتھ موجود ہے۔

ایسا نظر آرہا ہے کہ باغیوں کا سرغنہ عبدالملک الحوثی تحریک کی قیادت میں قبل از وقت انقلاب پر عمل درامد کی تگ و دو کر رہا ہے۔

ادھر سربراہی کے تنازع کے سبب حوثی ملیشیاؤں کی قیادت کے اندر اختلافات کا بحران پھوٹ پڑا ہے۔ حوثی خاندان کے اندر بھائیوں کے درمیان پھوٹ کے نتیجے میں بہت سے ایسے رہ نماؤں کی زندگی کا خاتمہ ہوگیا جو جماعت کے بانی اراکین میں شمار ہوتے تھے جب کہ ان میں بعض کو نظربند کردیا گیا۔

ذرائع کے مطابق عبدالملک الحوثی نے اپنے 16 سالہ بیٹے جبریل کو اپنا جانشیں بنانے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے۔

جبریل کو پاسداران انقلاب اور حزب اللہ کی جانب سے ایران بھیجا گیا اور اس کو روپوش رکھا گیا۔ حزب اللہ تنظیم کے عسکری ارکان پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم کو اس کے پہرے پر مقرر کیا گیا ہے۔ خیال ہے کہ جبریل بیروت کے جنوبی علاقے ضاحیہ میں موجود ہے۔

حوثیوں باغیوں کے سرغنے کی جانب سے اپنے بیٹے کو تحریک کی قیادت کا وارث بنانے کی تگ و دو کے نتیجے میں حوثی خاندان کے اندر جلد خون ریز تنازع کھڑا ہوسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یمن میں حالات بدترین حالات کی ذمہ دار حوثی تحریک کا سقوط بھی عمل میں آسکتا ہے جس نے منظرنامے سے تمام سیاسی قوتوں کو ہٹانے پر کام کیا۔