.

مصر: اسرائیلی،فلسطینی تنازعے کے دو ریاستی حل کی پُرزور حمایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری وزیر خارجہ سامح شکری نے کہا ہے کہ ان کا ملک اسرائیلی ،فلسطینی تنازعے کے دو ریاستی حل کی غیر متزلزل اور پُرزور حمایت جاری رکھے گا۔

وہ اتوار کو اسرائیل کے دورے کے موقع پر تل ابیب میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔اس موقع پر صہیونی وزیراعظم نے فلسطینیوں پر زوردیا ہے کہ ''وہ مصر اور اردن کی دلیرانہ مثال کی پیروی کریں اور ہمارے ساتھ براہ راست مذاکرات کریں''۔

مصری وزیر خارجہ نے نیتن یاہو سے ملاقات میں فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان تعطل کا شکار امن عمل کی بحالی کے لیے اعتماد کی فضا پیدا کرنے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا ہے تاکہ فریقین میں تنازعے کے حل کی جانب پیش رفت کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جاسکے۔

واضح رہے کہ 2007ء کے بعد کسی مصری وزیر خارجہ کا اسرائیل کا یہ پہلا دورہ ہے۔انھوں نے قبل ازیں 29 جون کو مغربی کنارے کے شہر رام اللہ کا دورہ کیا تھا اور وہاں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کی تھی۔انھوں نے یہ دورہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی مئی میں ایک تقریر کے تناظر میں کیا ہے۔

مصری صدر نے فلسطینی تنازعے کے حل کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا تھا اور اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرنے کی پیش کش کی تھی۔انھوں نے دونوں فریقوں پر زوردیا تھا کہ وہ اس حقیقی موقع سے فائدہ اٹھائیں۔

انھوں نے اسرائیل کے ساتھ مصر کے امن معاہدے کو بھی سراہا تھا۔یادرہے کہ مصر پہلا عرب ملک تھا جس نے کئی سال کی کشیدگی کے بعد 1979ء میں اسرائیل کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ میں امن معاہدے طے کیا تھا اور اس کے ساتھ سفارتی اور سیاسی تعلقات استوار کیے تھے۔اس کے بعد اردن نے بھی نوّے کی دہائی میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کر لیے تھے۔