.

عراق میں ہلاک داعش سے وابستہ سوڈانی ’خاتون ڈاکٹر‘ کون؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کے ذرائع ابلاغ نے ایک نوجوان خاتون ڈاکٹر روان زین العابدین کی عراق میں ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ روان خرطوم میں طب کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد عراق چلی گئی تھی جہاں اس نے شدت پسند گروپ دولت اسلامی ’داعش‘ میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔

اخبار ’سوڈان ٹرائبیون‘ نے اپنی رپورٹ میں مقتول داعشی ڈاکٹرکے تعارف پر مبنی تفصیلات جاری کی ہیں اور بتایا ہے کہ 22 سالہ روان زین العابدین داعش میں شمولیت سے قبل خرطوم میں میڈیکل سائنس و ٹیکنالوجی یونیورسٹی میں سال سوم کی طالبہ تھیں۔

اس نے سنہ 2015ء میں اپنے ایک دوست کے ہمراہ داعش میں شمولیت اختیار کی۔ بعد ازاں اسی کے ساتھ اس نے شادی کی جس سے ایک بچہ بھی ہے۔ مقتولہ کا شوہرابھی تک داعش میں شامل ہے اور مختلف کارروائیوں میں حصہ لے چکا ہے۔

خیال رہے کہ روان ان 18 سوڈانی طلباء میں شامل ہے جو پچھلے سال داعش میں شمولیت کے لیے عراق اور شام روانہ ہوگئے تھے۔ ان میں روان کے ساتھ دو دیگر طالبات بھی شامل تھیں۔ داعش میں شمولیت کے لیے سفر کرنے والے سوڈانی طلباء میں 10 کے پاس مغربی ملکوں کے پاسپورٹس بھی ہیں۔

اخباری رپورٹس کے مطابق داعش میں شمولیت کے بعد مارے جانے والے سوڈانیوں کی تعداد 35 ہے۔ ان میں 20 جنگجو لیبیا میں ہلاک ہوچکے ہیں۔ تاہم پہلی بار کسی سوڈانی خاتون کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق شام اور عراق میں داعش کی صفوں میں لڑنے والے سوڈانیوں کی کل تعداد 150 کے لگ بھگ ہے۔ ان میں سے 56 جنگجو دوسرے ملکوں کے پاسپورٹس پر شام اور عراق پہنچے۔ ان میں 45 طلباء ہیں جو تین گروپوں کی صورت میں داعش میں شامل ہوئے اور ان میں 35 اب تک ہلاک ہوچکے ہیں۔

پچھلے سال سوڈانی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ دوہری شہریت رکھنے والے 70 سوڈانی داعش میں شامل ہوچکے ہیں۔ تاہم غیر سرکاری رپورٹس میں داعش میں شامل ہونے والے سوڈانی طلباء کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بیان کی جاتی ہے۔