ایران کا دہشت گرد تنظیم "حزب الله" کی سپورٹ جاری رکھنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی وزیر خارجہ کے معاون عباس عراقجی کا کہنا ہے کہ تہران لبنانی تنظیم حزب اللہ کی ملیشیاؤں کی سپورٹ جاری رکھے گا اور ایران اس تنظیم کو قربان نہیں کرے گا جو عرب دنیا کی جانب سے اور بین الاقوامی سطح پر دہشت گرد قرار دی جا چکی ہے۔

حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ نے چند روز قبل غیرمسبق انداز میں انکشاف کیا تھا کہ تنظیم کے تمام تر مالی امور کا سلسلہ ایران کی جانب چل رہا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے حزب اللہ کی سپورٹ کی یقین دہانی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کہ امریکی وہائٹ ہاؤس گزشتہ ماہ تہران کو خبردار کر چکا ہے کہ وہ نصر اللہ اور اس کی دہشت گرد ملیشیاؤں کو سپورٹ نہ کرے۔

ایران کو حزب اللہ جیسی دہشت گرد ملیشیاؤں کی سپورٹ کی وجہ سے دہشت گردی کا سرپرست ملک شمار کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے امریکی کانگریس نے بھی تہران کے خلاف بعض عائد بعض پابندیوں اور مالیاتی و اقتصادی قیود کو جاری رکھا ہے۔

منی لانڈرنگ اور اس سے متعلق مغربی قوانین کے حوالے سے عراقجی کا کہنا تھا کہ " ہم حزب اللہ کو قربان نہیں کریں گے۔ منی لانڈرنگ سے متعلق FATF قوانین کی اس سلسلے میں کوئی حیثیت نہیں ہے"۔

ایران خطے میں اپنی پیروکار دہشت گرد ملیشیاؤں مثلا حزب اللہ اور حوثی جماعت کی مالی سپورٹ پر مُصر ہے۔ وہ بھی ایسے وقت میں جب کہ ایران کی کُل 8 کروڑ کی آبادی میں سے تقریبا 3 کروڑ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں جو پوری قوم کا تقریبا 40% کے قریب ہے۔

عراقجی نے امریکی عدالتوں میں ایران کے خلاف پیش کردہ مقدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ "امریکی عدالتوں کی جانب سے اب تک جاری فیصلوں کے تحت ایران سے تقریبا 90 ارب ڈالر ہرجانے کی وصولی کے احکامات دیے گئے ہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں