ابو عمر الشيشانی موصل کے جنوب میں قتل ہوا: داعش نیوز ایجنسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

داعش تنظیم کی ہمنوا نیوز ایجنسی "اعماق" کے مطابق تنظیم کا سینئر رکن ابو عمر الشیشانی عراق میں موصل کے جنوب میں واقع شہر الشرقاط کے معرکوں میں مارا گیا تھا۔

امریکی وزارت دفاع پینٹاگون نے رواں سال مارچ میں اعلان کیا تھا کہ الشیشانی (جس کو پینٹاگون نے تنظیم کا وزیرِ جنگ قرار دیا) شام میں ایک امریکی فضائی حملے میں ہلاک ہو گیا۔

عراقی فورسز موصل کی جانب آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہیں جو ابھی تک داعش تنظیم کے زیرکنٹرول سب سے بڑا شہر ہے۔ عراقی فورسز بغداد سے 250 کلومیٹر شمال میں واقع شہر الشرقاط کا گھیراؤ کرنے کے قریب پہنچ چکی ہیں۔ گزشتہ ہفتے فورسز نے ایک بڑا فضائی اڈہ شدت پسندوں سے واپس لے لیا تھا۔ اب موصل پر مرکزی حملے کے سلسلے میں اس اڈے کو استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے ۔

الشیشانی کو جو عمر الشیشانی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ، امریکا کو مطلوب نمایاں ترین افراد کی فہرست میں رکھا گیا تھا۔ واشنگٹن نے الشیشانی کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے کے لیے 50 لاکھ ڈالر کی رقم کا اعلان بھی کیا۔

الشیشانی 1986ء میں جارجیا میں پیدا ہوا جو اُس وقت سوویت یونین میں شامل تھا۔ یہ بات معروف تھی کہ وہ داعش تنظیم کے سربراہ ابوبکر البغدادی کا قریبی مشیر تھا اور کہا جاتا ہے کہ وہ الشیشانی پر بے پناہ اعتماد کرتا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں