.

انقلاب کے سفینے کو چیرہ لگا تو سب ڈوبیں گے: رفسنجانی کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں مجلس تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ اور سابق صدر ہاشمی رفسنجانی نے تہران اور بڑے ممالک کے درماین طے پائے گئے نیوکلیئر معاہدے کی مخالفت سے خبردار کیا ہے۔ انہوں نے اس امر کو "انقلاب کے سفینے میں چیرہ لگنے" سے تشبیہہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بِلا استثناء سب کو لے ڈوبے گا۔

ایرانی نظام کے مرشد اعلی علی خامنہ ای اور ان کے قریبی حلقے متعدد بار اس نیوکلیئر معاہدے کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں جو ہاشمی رفسنجانی کے حلیف حسن روحانی کی حکومت نے بڑے ممالک کے ساتھ طے کیا۔

ایرانی طلبہ کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی "ISNA" کے مطابق رفسنجانی نے میڈیا سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے ایک گروپ کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ "قوم کے دانش ور دھیرے دھیرے اس بات کو جاننا شروع ہوگئے ہیں کہ انقلاب کے سفینے میں چیرہ لگا تو ڈوبنا ہی سب کا مقدر ہوگا"۔

"سب" کے لفظ سے رفسنجانی کی مراد ایرانی نظام کے تمام دست و گریباں دھڑے بالخصوص مرشد اعلی ہیں جو ایران پر عائد تمام پابندیوں کو مکمل طور پر ختم کرنے پر تو زور دے رہے ہیں تاہم مغرب کے قریب آنے یا واشنگٹن سے مذاکرات کو مسترد کرتے ہیں۔ تہران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے پر دستخط میں واشنگٹن مرکزی فریق تھا۔

رفسنجانی کے مطابق " اس دنیا میں جو اب ایک چھوٹا سا گاؤں بن گئی ہے ، یقینا دیگر ممالک کے ساتھ رابطہ نہ رکھنے اور بین الاقوامی صورت حال کو صحیح طور نہ جانچنے کا نتیجہ ، کسی بھی ملک میں معیشت کے تنزل کی صورت میں سامنے آئے گا"۔

رفسنجانی نے حسن روحانی کی حکومت کا دفاع کرتے ہوئے اس کے مخالفین کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ عناصر "ایران کی تعمیر کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں اور ملک کو علم و ترقی اور دنیا کے ساتھ باہمی معاملہ بندی کی جانب بڑھنے سے روک رہے ہیں۔

رفسنجانی نے مرشد اعلی کے قریب سمجھی جانے والی سخت گیر قیادت پر الزام لگایا کہ وہ ایران کے عالمی برادری کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے سلسلے میں حسن روحانی کی حکومت کی کوششوں کو ناکام بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ "بعض ٹولے اس طرح کا فریب دینے میں ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہیں کہ نیوکلیئر معاہدہ ناکام ہے۔ یہ لوگ محسوس نہیں کررہے ہیں کہ حکومت کو کمزور کرنے کے نتیجے میں نظام کمزور ہوگا اور اس سے ان سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہوگا جو ایران آنا چاہتے ہیں"۔

نیوکلیئر معاہدہ .. دھڑوں کا تنازع

حسن روحانی کی معتدل حکومت کی جانب سے نیوکلیئر معاہدے پر دستخط کیے جانے کے بعد سے ایران کا داخلی میدان ملکی نظام کے دھڑوں کے درمیان تنازع کا اکھاڑہ بن گیا ہے۔ ایک طرف معتدل بلاک اور اس کے اصلاح پسند حلیف معاہدے کو بین الاقوامی سطح پر حکومت کی شان دار کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ دوسری طرف سخت گیر عناصر اس بات کو باور کرا رہے ہیں کہ یہ معاہدہ ایران کے لیے ذلت کے چیک کی حیثِیت رکھتا ہے۔

ایسے میں جب کہ صدر حسن روحانی نے نیوکلیئر معاہدے پر دستخط کو فتح کا تسلسل قرار دیا تو اس کے مقابل علی خامنہ ای نے اسے "بڑا خسارہ" شمار کیا۔ خامنہ ای سمجھتے ہیں کہ حکومت نے مذاکرات کے دوران قابل ذکر فوائد حاصل کیے بغیر ہی بڑی رعایتیں اور دست برداریاں پیش کر دیں۔ اگرچہ مرشد اعلی خود بھی بارہا اس سفارت کاری کو سراہ چکے ہیں، جس کے نتیجے میں نیوکلیئر معاہدہ عمل میں آیا۔

تاہم یہاں جو سوال ذہنوں میں آتا ہے وہ یہ کہ آیا تمام مالیاتی ، اقتصادی ، صنعتی ، فوجی اور سائنس و ٹکنالوجی کے شعبوں میں تہران پر عائد پابندیوں کی روشنی میں کیا حسن روحانی کے سامنے کوئی دوسرا اختیار تھا ؟